پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے امیدوار ہوں گے سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان پر سنگین الزامات لگائے تھے.

انہوں نے علیمہ خان پرپارٹی میں تقسیم کاالزام عائد کیا تھا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہو چکی ہے آج بھی اورکزئی میں جوانوں کی شہادت پر بہت افسوس ہے اس لیے میرے پاس اب کوئی گنجائش نہیں بچی کہ میں تبدیلی نا کروں ۔

سلمان اکرم راجہ
pic.twitter.com/Z6wJ4u58LZ

— PTI (@PTIofficial) October 8, 2025

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہٹانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال ہے، صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر عمران خان غمگین ہیں اور خاص طور پر آج ضلع اورکزئی میں ہونے والے واقعے میں جوانوں کی شہادت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب میرے پاس کوئی چارہ نہیں کہ میں تبدیلی کروں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے یاد دلایا کہ پچھلے دو سالوں میں یہ موقف رہا ہے کہ وفاقی حکومت کا جو طریقہ کار یا پالیسی اپنائی ہوئی ہے وہ بالکل غلط ہے اور خیبرپختونخوا حکومت خود کو اس پالیسی سے دور کرے، یہ پالیسی جنگ وجدل کی پالیسی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس تمام عرصے میں عمران خان نے کہا کہ میں نے بار بار یہ کہا ہے کہ جب تک اسٹیک ہولڈرز (قبائل، افغان حکومت اور افغان عوام) کو شامل نہیں کیا جائے گا تب تک خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان میں امن نہیں ہوگا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے جس طرح افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا، ان کی بےعزتی کی، اس سے ہم نے ایک ایسی نفرت بوئی ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، 40 سال مہمان نوازی کے بعد ہم نے ایسی حرکت کی جو ناقابل معافی ہے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ایک سال سے زائد عرصے تک وزیر خارجہ رہے اور وہ ایک بار بھی کابل نہیں گئے، وہاں کی حکومت سے کوئی رابطہ نہیں رکھا گیا، جب کہ میرے دور میں دہشت گردی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی، اس ملک میں وہ حملے نہیں ہورہے تھے جو آج ہورہے ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس پر مذاکرات کیے جائیں اور اس کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے اور اس معاملے کو حل کیا جائے۔سلمان اکرم راجا کے مطابق عمران خان کو توقع ہے کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد خیبرپختونخوا میں نئی حکومت اور نئی سوچ قائم ہوگی، جہاں افہام وتفہیم کی بات ہوگی اور معاملات کو سمجھنے کی بات ہوگی، جرگہ سسٹم سے معاونت حاصل کی جائے گی اور اس معاملے کو ایک دیرپا حل مہیا کیا جائے گا۔

علی امین گنڈا پور نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حکم پر وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی کی پوزیشن بانی پی ٹی آئی کی امانت تھی، یہ امانت ان کو واپس کر کے اپنا استعفی دے رہا ہوں، تاہم سہیل آفریدی کو میری مکمل حمایت اور سپورٹ حاصل ہوگی اور ہم عمران خان کی رہائی اور پارٹی پالیسی کے لیے ایک ہوکر آگے بڑھیں گے۔

اس سے قبل، صوبائی وزیر سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا علی امین گنڈا پور پر بھرپور اعتماد ہے اور وہ وزیر اعلیٰ ہیں اور رہیں گے

دوسری جانب، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر وضاحتی بیان میں کہا کہ میں نے علی امین گنڈا پور کے بارے میں میڈیا کو کوئی بیان نہیں دیا‘۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے کسی بھی میڈیا ادارے سے یہ بات نہیں کی کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی خبر جعلی ہے یا یہ پارٹی کے خلاف کوئی سازش ہے، اس حوالے سے نجی ٹی وی نے خود وضاحت کردی ہے کہ انہوں نے جو خبر نشر کی تھی، وہ درست نہیں تھی۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر اطلاعات زیر گردش تھیں کہ تحریک انصاف نے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے ہٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ سہیل ّآفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نیا وزیراعلیٰ بنایا جارہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور ان کا کہنا تھا کہ کرتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجا بانی پی ٹی آئی سہیل آفریدی نے کہا کہ نے علی کہ میں

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش