افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی پہنچ گئے، یہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی طالبان رہنما کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا۔
نجی اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور دیگر حکام سے سیاسی، اقتصادی اور تجارتی معاملات پر بات چیت کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے، جب امیر متقی نے ایک روز قبل ماسکو میں ایک علاقائی اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں افغانستان کے پڑوسی ممالک بشمول پاکستان، ایران، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔
اس اعلامیے میں خطے میں کسی غیر ملکی فوجی ڈھانچے کے قیام کی مخالفت کی گئی تھی، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس خواہش کے خلاف ایک اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ کابل کے قریب بگرام فوجی اڈے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ابھی تک روس واحد ملک ہے، جس نے طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
تاریخی طور پر، بھارت اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات رہے ہیں، لیکن 2021 میں امریکا کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد نئی دہلی نے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔
ایک سال بعد بھارت نے تجارت، طبی امداد اور انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے ایک چھوٹا سا مشن دوبارہ کھولا تھا۔
نئی دہلی نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتوں اور مذاکرات کے ذریعے تعلقات کو بتدریج بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ امیر خان متقی کا یہ دورہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی کی جانب سے ان پر عائد سفری پابندی میں عارضی نرمی کے بعد ممکن ہوا، تاکہ وہ بیرونِ ملک سفارتی روابط قائم کر سکیں۔
طالبان وزارتِ خارجہ کے مطابق، امیر متقی کے دورے کے دوران باہمی تعاون، تجارتی تبادلے، خشک میوہ جات کی برآمدات، صحت کے شعبے کی سہولیات، قونصلر خدمات اور مختلف بندرگاہوں کے استعمال پر بات چیت کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر پابندی
دوسری جانب انٹرنیٹ واچ ڈاگ نیٹ بلاکس نے بدھ کے روز بتایا کہ افغانستان میں فیس بک، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی }جان بوجھ کر محدود‘ کر دی گئی ہے۔
اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق منگل سے موبائل فون پر سوشل میڈیا سائٹس تک جزوی رسائی ممکن رہی، یہ پابندی ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے جب طالبان حکام نے پورے ملک میں 48 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ اور فون سروس بند کر دی تھی۔
نیٹ بلاکس سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی تنظیم ہے، اس نے کہا کہ پابندیاں اب متعدد سروس فراہم کنندگان پر تصدیق شدہ ہیں، اور پیٹرن ظاہر کرتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر عائد کی گئی ہیں۔
یہ تعطل زیادہ تر موبائل نیٹ ورکس کو متاثر کر رہا ہے جبکہ کچھ فکسڈ لائنز بھی متاثر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغانستان کے نئی دہلی
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔