نریندر مودی کی اسرائیلی وزیراعظم کی "غیر مشروط تعریف" شرمناک اور نفرت انگیز ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی کہا کہ نریندر مودی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تعریف کی۔ وہیں کانگریس نے جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے لئے وزیراعظم کی "غیر مشروط تعریف" کو شرمناک اور اخلاقی طور پر نفرت انگیز قرار دیا اور ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مستقبل پر ان کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی کہا کہ نریندر مودی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ مودی نے غزہ سے متعلق نئی پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی تعریف کی، ایسا کرنے کی ان کی بے تابی حیرت انگیز نہیں ہے لیکن جو بات حیران کن، شرمناک اور اخلاقی طور پر قابل مذمت ہے وہ یہ ہے کہ مودی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی غیر مشروط تعریف کی ہے، جنہوں نے غزہ میں گذشتہ 20 مہینوں کے دوران نسل کشی چھیڑ رکھی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی نے ایک آزاد، خودمختار ریاست فلسطین کے مستقبل پر بھی مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جسے بھارت نے نومبر 1988ء میں تسلیم کیا تھا اور جسے اب 150 سے زیادہ ممالک تسلیم کر چکے ہیں۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش کے یہ تبصرے وزیراعظم مودی کی جانب سے ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر معاہدے کا خیرمقدم کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کے تحت اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مضبوط قیادت کی بھی علامت ہے۔
مودی نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا "ہم صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی مضبوط قیادت کی بھی علامت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے لوگوں کے لئے انسانی امداد میں اضافے سے انہیں راحت ملے گی اور دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے تجویز کردہ معاہدے کے تحت اسرائیل اور حماس نے غزہ میں لڑائی روکنے اور کم از کم کچھ یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دو سال کی تباہ کن جنگ میں مہینوں کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کا خیرمقدم کہا کہ
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز