وفاقی کابینہ نے پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کی توثیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے کی توثیق کردی۔
پی ایم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو اپنے سعودی عرب، قطر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور ملائیشیاء کے سرکاری دوروں کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے باہمی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے (Strategic Mutual Defence Agreement) کی توثیق (ratification) کر دی۔
اس موقع پر کابینہ اراکین نے پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وفاقی کابینہ نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے 15 ناقابل پرواز ہوائی جہازوں (8 سیسنا اور 7 فلیچر) کو تعلیمی، یادگاری یا نمائش کے مقاصد کے لیے مختلف اداروں کو عطیہ کرنے کی منظوری دے دی۔
ادارے کے زیر استعمال باقی 4 قابل پرواز بیور ہوائی جہاز ٹڈی دل کے خلاف کارروائیوں کے لیے محمکہ پلانٹ پروٹیکشن کے زیر استعمال رہیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ان ہوائی جہازوں کی نیلامی کے سابقہ اقدامات کامیاب نہیں ہو پائے تھے جس کے بعد ان ہوائی جہازوں کے حوالے سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے وزارت آبی وسائل کی سفارش پر واپڈا کے زیر انتظام اہم ڈیموں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکورٹی فورس کے قیام کے لئے "واپڈا سیکورٹی فورس ایکٹ، 2025" کی قانون سازی کی اصولی منظوری دے دی۔
کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 2 اکتوبر، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 22 ستمبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
تاہم آلٹرنیٹ میڈیسنز اینڈ ہیلتھ پراڈکٹس اینلسمینٹ رولز 2014 (Alternate Medicines and Health Products Enlistment Rules-2014) میں مجوزہ ترامیم کی منظوری نہیں دی اور اسے خصوصی کابینہ کمیٹی کے حوالے کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ نے کی توثیق
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔