Jasarat News:
2026-07-24@04:25:36 GMT

دہشت گردی کا ناسور

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

251010-03-2

 

بھارت کی سرپرستی اور پشتی بانی سے دہشت گرد گروہوں، جن کے لیے آج کل فتنہ الخوارج کی اصطلاح مستعمل ہے، کی سرگرمیاں خاصی بڑھ گئی ہیں خصوصاً صوبہ خیبر اور بلوچستان کے سرحدی علاقے ان کا ہدف ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی اطلاع کے مطابق سات اور آٹھ اکتوبر کی درمیانی شب پاک فوج نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر صوبہ خیبر کے قبائلی ضلع اورکزئی میں آپریشن کیا جس میں انیس دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلہ میں ضلع راولپنڈی کے رہائشی 39 سالہ لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور ان کے سیکنڈ ان کمانڈ ضلع راولپنڈی ہی سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ میجر طیب راحت اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے جب کہ دیگر نو فوجی جوانوں نے بھی جھڑپ میں شہادت پائی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دیگر خارجیوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار پاک فوج کے جوانوں کی جرأت و بہادری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے شیطانی منصوبے ہر صورت ناکام بنائیں گے جو لوگ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے ان کا راستہ روک کر کیفر کردار کو پہنچایا جائے گا۔ دریں اثنا بدھ کے روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں 272 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز بھارتی دہشت گرد پراکسیوں کے ذریعے کیے گئے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی سے ہوا۔ آرمی چیف نے غیر ملکی اسپانسر شدہ دہشت گرد پراکسیوں کے خلاف جنگ میں اور سول انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر حالیہ سیلاب کے بعد وسیع پیمانے پر ریلیف اور ریسکیو آپریشنز کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کے جذبے، حوصلے اور عزم کو سراہا۔ کانفرنس میں انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں، ابھرتے ہوئے خطرے کے نمونے اور آپریشنل تیاریوں کا ایک جامع جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ مسلح افواج تمام ڈومینز میں پاکستان کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ دہشت گردی، جرائم اور سیاسی سرپرستی کے باہمی گٹھ جوڑ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فورم نے بھارتی سول اور عسکری قیادت کے حالیہ غیر ذمے دارانہ اور بلاجواز اشتعال انگیز بیانات پر شدید تحفظات کا اظہارکیا اور کہا کہ اس طرح کی بیان بازی سیاسی فائدے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دینے کے معروف بھارتی رجحان کے مطابق ہے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غیر ضروری اشتعال انگیزی سے کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے اور علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا۔ فورم نے کسی بھی ہندوستانی جارحیت کا فوری فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب دینے کا عہد کیا تاکہ دشمن کے کسی بھی غلط فہمی پر مبنی تحفظ کے تصور کو توڑا جا سکے، کسی بھی، خیالی نئے معمول کا جواب پاکستان کی جانب سے، فیصلہ کن اور فوری رد عمل، کی نئی پالیسی کے تحت دیا جائے گا۔ شرکاء نے پاکستان کی حالیہ اعلیٰ سطح کی سفارتی مصروفیات کی اہمیت کو تسلیم کیا اور عالمی اور علاقائی امن کے عزم کا اعادہ کیا۔ فورم نے پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا، جس کا مقصد کسی بھی بیرونی جارحیت کا مشترکہ جواب دینے کے لیے اسٹرٹیجک تعلقات کو مضبوط بنانا اور ملٹی ڈومین تعاون کو بڑھانا ہے۔ فورم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد اور فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا اور جلد جنگ بندی اور غزہ کے لوگوں تک انسانی امداد کی فراہمی کی امید ظاہر کی۔ فورم نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا، 1967ء سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو اس کے دارالحکومت کے طور پر قائم ایک آزاد فلسطینی ریاست کے ساتھ دو ریاستی حل کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، جسمانی فٹنس، جدت اور رد عمل کے اعلیٰ ترین معیارات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ فیلڈ مارشل نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان آرمی روایتی، غیر روایتی، ہائبرڈ اور غیر متناسب تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ امر قوم کے لیے باعث اطمینان ہے کہ ہمار مسلح افواج ملک کے دفاع اور تحفظ کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں اور دشمن کی دہشت گردانہ اور تخریب کاری کی سرگرمیوں کی سرکوبی کے لیے بھی ہمہ وقت کوشاں اور چوکس ہیں تاہم یہ بات باعث تشویش بھی ہے کہ طویل عرصہ سے جاری انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے باوجود کیفیت ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ سے مختلف نہیں اور ہمارے شہریوں اور دفاعی اداروں کے اہلکاروں کے جانی نقصان میں تکلیف دہ حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آنے والی ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق موجودہ سال 2025ء کے آغاز سے اب تک وطن عزیز میں دہشت گردی کے 802 واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ صوبہ خیبر میں ہوئے جب کہ 45 فی صد بلوچستان میں پیش آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تخریب کاری کے ان واقعات کی شدت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے چنانچہ یکم جنوری سے آج تک دشمن کے ان عناصر کی کارروائیوں میں 503 شہری جب کہ مسلح اداروں کے 895 اہلکار شہید ہو چکے ہیں دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں بھارت کا ملوث ہونا اب کوئی راز نہیں رہا۔ بھارتی بحریہ کے اعلیٰ افسر کلبوشن یادیو اور بھارتی ایجنٹوں کی گرفتاری اس کا واضح ثبوت ہے اس کے علاوہ بھی حکومت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی سفارت خانوں کو ایک سے زائد بار بھارت کی مداخلت اور دہشت گرد گروہوں کو رقوم، اسلحہ اور تربیت کی سہولتوں کی فراہمی کے متعدد ٹھوس شواہد پیش کر چکی ہے مگر بدقسمتی سے صورت حال میں کوئی بہتری نہیں آ سکی۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے ادارے دہشت گردی کے اس جان لیوا ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے یقینا پر عزم ہیں ہمارے جوان دشمن کے آلہ کار گروہوں کے خلاف صبح و شام مسلسل سرگرم عمل ہیں اور ملکی سالمیت اور قومی سلامتی کی خاطر بلا دریغ جانوں کی قربانی دے رہے ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر دہشت گردی سے نجات کے لیے جدوجہد کرے خاص طور پر اس ضمن میں وفاق اور صوبوں کے مابین پائے جانے والے حکمت عملی کے اختلافات کو مل بیٹھ کر سنجیدگی سے طے کیا جائے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے اور پاکستانی عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کی کے مطابق کے لیے ا کسی بھی دشمن کے فورم نے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار