وفاقی کابینہ نے پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کی توثیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے کی توثیق کردی۔
پی ایم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو اپنے سعودی عرب، قطر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور ملائیشیاء کے سرکاری دوروں کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے باہمی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے (Strategic Mutual Defence Agreement) کی توثیق (ratification) کر دی۔
اس موقع پر کابینہ اراکین نے پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وفاقی کابینہ نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے 15 ناقابل پرواز ہوائی جہازوں (8 سیسنا اور 7 فلیچر) کو تعلیمی، یادگاری یا نمائش کے مقاصد کے لیے مختلف اداروں کو عطیہ کرنے کی منظوری دے دی۔
ادارے کے زیر استعمال باقی 4 قابل پرواز بیور ہوائی جہاز ٹڈی دل کے خلاف کارروائیوں کے لیے محمکہ پلانٹ پروٹیکشن کے زیر استعمال رہیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ان ہوائی جہازوں کی نیلامی کے سابقہ اقدامات کامیاب نہیں ہو پائے تھے جس کے بعد ان ہوائی جہازوں کے حوالے سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے وزارت آبی وسائل کی سفارش پر واپڈا کے زیر انتظام اہم ڈیموں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکورٹی فورس کے قیام کے لئے "واپڈا سیکورٹی فورس ایکٹ، 2025” کی قانون سازی کی اصولی منظوری دے دی۔
کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 2 اکتوبر، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 22 ستمبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
تاہم آلٹرنیٹ میڈیسنز اینڈ ہیلتھ پراڈکٹس اینلسمینٹ رولز 2014 (Alternate Medicines and Health Products Enlistment Rules-2014) میں مجوزہ ترامیم کی منظوری نہیں دی اور اسے خصوصی کابینہ کمیٹی کے حوالے کردیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان وفاقی کابینہ نے کی توثیق
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔