پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو، ترجمان دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 5 سے 7 اکتوبر تک ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا، جو ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی دعوت پر کیا گیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔ ترجمان کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم نے شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردوں کے لیے کسی قسم کی لچک قابلِ برداشت نہیں، وزیردفاع کا افغانستان کو واضح پیغام
دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی رابطوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے، دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے اور غزہ میں جاری نسل کشی کی شدید مذمت کرنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے آسیان (ASEAN) کی چیئرمین شپ کے لیے ملائیشیا کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کو لیڈرشپ اور گورننس میں اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔
فلسطین پالیسی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقفنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی پالیسی پر قائم ہے۔
پاکستان نے صمود فلوٹیلا اور پانچ سو انسانی حقوق کارکنوں کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر سابق سینیٹر مشتاق احمد نے نائب وزیراعظم سے ٹیلی فونک گفتگو میں ان کی بہادری اور کوششوں کو سراہا۔
غزہ امن منصوبہ، خطے کی صورتحال اور سفارتی رابطےترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 4 اکتوبر کو سعودی اور مصری وزرائے خارجہ سے غزہ امن منصوبے کے حوالے سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور سعودی وزیر خارجہ کی کوششوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں:لیہہ میں مظاہرین کی ہلاکتیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں، دفتر خارجہ
یکم اکتوبر کو انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ سے بھی بات چیت کی، جبکہ پاکستان کے ایمبیسیڈر محمد صادق نے ماسکو میں چار ملکی فارمیٹ ڈائیلاگ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
افغانستان کی خودمختاری اور پاکستان کا مؤقفافغانستان کے بھارت سے تعلقات سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور اپنی خارجہ پالیسی میں آزاد ہے۔
تاہم پاکستان یہ چاہتا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
افغانستان میں پاکستانی فوج کے مبینہ حملے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشتگردوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
امیر خان متقی کے دورے سے متعلق وضاحتترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا اگست میں پاکستان کا کوئی دورہ شیڈول نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں:امن نوبیل انعام 2025: صدر ٹرمپ پر سبقت پانے والی ماریا کورینا کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس غلط فہمی پر مبنی ہیں، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باہمی احترام اور رابطوں پر مبنی ہیں۔
امریکا سے تعلقات اور نوبل انعام کی نامزدگیپسنی میں امریکی بندرگاہ سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا، اسی لیے انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔
4 مارچ 2024 کو محمد پہلوان سمیت آٹھ پاکستانیوں کو امریکا میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں ایمرجنسی سفری دستاویزات جاری کر دی گئی ہیں۔
غزہ سیز فائر میں پاکستان کا مثبت کردارترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان غزہ سیز فائر عمل کا حصہ تھا اور اس نے امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان پاکستان ترجمان دفتر خارجہ دفتر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان ترجمان دفتر خارجہ دفتر خارجہ ترجمان دفتر خارجہ نے نے کہا کہ پاکستان میں پاکستان پاکستان کا بتایا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔