دیپیکا پڈوکون بھارت میں مینٹل ہیلتھ ایمبیسیڈر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ دیپیکا پڈوکون کو ملک کی پہلی “مینٹل ہیلتھ ایمبیسیڈر” مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں بھارت کی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے دیا گیا، جس کا مقصد ذہنی صحت کے فروغ اور آگاہی کو قومی سطح پر مضبوط بنانا ہے۔
دیپیکا پڈوکون نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو ایک اہم قومی فریضہ سمجھتی ہیں اور ذہنی صحت کے حوالے سے جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری کے دوران اس بات پر خصوصی توجہ دیں گی کہ معاشرے میں ذہنی امراض کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور لوگوں کو مدد حاصل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی دی جائے تاکہ وہ کھل کر اس پر بات کر سکیں۔
Renowned Indian actress Deepika Padukone has been appointed as the first-ever Mental Health Ambassador of the Union Ministry of Health & Family Welfare.
She expressed her deep honor in taking up this role and emphasized her commitment to supporting India’s ongoing efforts under… pic.twitter.com/lRa2LzcaMI
— Ministry of Health (@MoHFW_INDIA) October 10, 2025
واضح رہے کہ دیپیکا پڈوکون ماضی میں بھی ذہنی صحت کے موضوع پر کھل کر بات کرتی رہی ہیں وہ اس بات کر اعتراف بھی کر چکی ہیں کہ وہ ماضی میں شدید ذہنی دباپ کا شکار تھیں اور اپنا علاج بھی کروایا۔
یاد رہے کہ ذہنی صحت کی آگاہی کے حوالے سے ان کی فلاحی تنظیم “لائیو لو لاف” (Live Love Laugh) فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دیپیکا پڈوکون
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔