وزیراعظم شہباز شریف مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت اور غزہ میں جاری سنگین صورتحال کے خاتمے کے لیے امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے کل( 13 اکتوبر ) مصر روانہ ہوں گے۔وزارت خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ اور دیگر سینئر وزراء بھی اس دورے میں شامل ہوں گے۔شرم الشیخ سربراہی اجلاس دراصل ان سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے جو گزشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر شروع ہوئی تھیں۔وزیراعظم پاکستان نے 23 ستمبر 2025 کو سات عرب و اسلامی ممالک , مصر، اردن، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ترکیہ   کے سربراہان کے ساتھ امریکی صدر سے اعلیٰ سطحی ملاقات میں شرکت کی تھی .

جس میں غزہ میں امن کے قیام کے امکانات پر غور کیا گیا تھا۔ان عرب و اسلامی ممالک نے ایک مشترکہ بیان کے ذریعے صدر ٹرمپ کی امن کے حصول کی کوششوں کو سراہا تھا اور اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی کے قیام اور غزہ میں سنگین انسانی صورتحال کے ازالے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔وزیراعظم کی اس سربراہی اجلاس میں شرکت پاکستان کی فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ان کے منصفانہ مقصد کے لیے تاریخی، مستقل اور غیر متزلزل حمایت کی عکاسی کرتی ہے، ساتھ ہی یہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔پاکستان کو امید ہے کہ شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس مکمل اسرائیلی انخلا، فلسطینی شہریوں کے تحفظ، ان کی جبری بے دخلی کے خاتمے، قیدیوں کی رہائی، جاری سنگین انسانی بحران کے حل اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے راہ ہموار کرے گا۔پاکستان کو یہ بھی امید ہے کہ یہ کوششیں ایک قابل اعتبار سیاسی عمل میں معاون ثابت ہوں گی. جس کا مقصد ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل ریاستِ فلسطین کا قیام ہے. جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو  اور جو متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہو۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری