---فائل فوٹو 

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ افغانی بچوں کوانسدادِ پولیو کے قطرے پلائیں گے اور پھر اِنہیں ملک بدر کریں گے، افغان بستی سے پولیو قطرے پلا کر افغانیوں کو واپس بھیجیں گے، انسداد پولیو کی ہفتہ وار مہم سہراب گوٹھ میں بھی بھرپور جاری رہے گی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر سندھ میں کسی نے شرارت کی تو جواب دیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ افغانستان نے بارڈر پر حملہ کیا، اس کو جواب مل گیا ہے، تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اپنی فوج کے ساتھ ہیں، ہماری سرحدوں پر خطرات ہیں مگر کیا اس سے پولیو مہم کو روکیں گے، نہیں، یہ بھی ایک جنگ ہے جو ہم لڑرہے ہیں، ہمیں ان بچوں کو اس بیماری سے بچانا ہے، یہ معاملہ کے پی کا ہے ہم کسی دوسرے صوبے کے معاملے میں نہیں بولیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز 13 تا 19 اکتوبر تک جاری رہے گی، دھمکیوں کا مقابلہ کریں گے لیکن پولیو مہم آگے پیچھے نہیں ہوگی، انسدادِ پولیو مہم کے دوران ایک کروڑ سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائےگی، سندھ بھرمیں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی۔

پاکستان سے پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے منفرد مہم شروع

ویکسینیشن ٹیموں نے جھولوں اور اونٹ کی مفت سواری کروانے کے ذریعے بچوں تک رسائی حاصل کر لی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت کئی اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی ہے، پولیو کا خاتمہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے، ہر بچہ صحت مند اور محفوظ مستقبل کا حق رکھتا ہے، 80 ہزار ہیلتھ ورکرز اور 21 ہزار سیکیورٹی اہلکار مہم میں شریک ہیں، ویکسینیشن ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو نومولود بچوں کو آج پولیو قطرے پلائے ہیں، ایک بچے کو میں نے اور ایک کو وزیرِ صحت نے قطرے پلائے ہیں، یہاں آنے کا مقصد پولیو وائرس کو شکست دینا ہے۔

اِن کا کہنا تھا کہ پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کے لیے چیف منسٹر ہاؤس میں سیل قائم کیا ہے، سیل میں تمام تر ڈیٹا ریکارڈ کیا جائے گا اور پھر اِن والدین سے رابطہ کیا جائے گا، کوشش ہوگی والدین کو آگاہی دی جائے اور پولیو کے قطروں کی اہمیت سمجھائی جائے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کو لازمی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں اور معذوری سے بچائیں، کسی بچے کے رہ جانے پر قریبی ہیلتھ سینٹر سے رابطہ کریں، پیپلز پارٹی حکومت کا عزم کہ پولیو فری پاکستان بنانا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ میڈیا چینلز سے گزارش ہے سب سے پہلی خبر پولیو کی نشر کریں، بدقسمتی سے کچھ لوگوں ہر چیز کو منفی بناتے ہیں، اگر اس ویکسین میں کوئی مسئلہ ہوتا تو شہید محترمہ آصفہ بھٹو کو ویکسین نہ پلاتی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے علماء، اساتذہ، سول سوسائٹی اور میڈیا سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام اور ساری سماجی شخصیات سے درخواست ہے انسدادِ پولیو مہم میں کردار ادا کریں۔

سندھ: 35 ہزار والدین کا بچوں کو انسدادِ پولیو ویکسین پلانے سے انکار

ذرائع وزارت صحت کے مطابق کراچی میں 34 ہزار سے زائد والدین نے بچوں کو انسداد پولیو کی ویکسین پلانے سے انکار کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیو وائرس صرف دو ممالک میں رہ گیا ہے، ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ ہم پولیو وائرس کو آج تک شکست نہیں دے سکے، افسوس کے ساتھ رواں سال صوبے میں پولیو کے 9 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹس بھی فراہم کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ سندھ نے تمام اضلاع میں انسداد پولیو مہم کی مکمل نگرانی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا عالمی اداروں کے ساتھ تعاون ہے۔

 اِن کا کہنا تھا کہ ضرور کوتاہیاں موجود ہیں، ان کی نشاندہی کر رہے ہیں، پوری دنیا میں پولیو ختم ہوچکا ہے، ہم ویکسین سب کو نہیں پہنچا سکے، ویکسین کے انکاری کیس بڑھ نہیں رہے کمی آرہی ہے، حکومت سندھ اور وفاقی حکومت مل کر پولیو پر کام کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ پولیو وائرس پولیو مہم پولیو کے کا کہنا بچوں کو کے قطرے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی