پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر سندھ میں کسی نے شرارت کی تو جواب دیں گے: مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ افغانی بچوں کوانسدادِ پولیو کے قطرے پلائیں گے اور پھر اِنہیں ملک بدر کریں گے، افغان بستی سے پولیو قطرے پلا کر افغانیوں کو واپس بھیجیں گے، انسداد پولیو کی ہفتہ وار مہم سہراب گوٹھ میں بھی بھرپور جاری رہے گی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر سندھ میں کسی نے شرارت کی تو جواب دیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ افغانستان نے بارڈر پر حملہ کیا، اس کو جواب مل گیا ہے، تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اپنی فوج کے ساتھ ہیں، ہماری سرحدوں پر خطرات ہیں مگر کیا اس سے پولیو مہم کو روکیں گے، نہیں، یہ بھی ایک جنگ ہے جو ہم لڑرہے ہیں، ہمیں ان بچوں کو اس بیماری سے بچانا ہے، یہ معاملہ کے پی کا ہے ہم کسی دوسرے صوبے کے معاملے میں نہیں بولیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز 13 تا 19 اکتوبر تک جاری رہے گی، دھمکیوں کا مقابلہ کریں گے لیکن پولیو مہم آگے پیچھے نہیں ہوگی، انسدادِ پولیو مہم کے دوران ایک کروڑ سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائےگی، سندھ بھرمیں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی۔
ویکسینیشن ٹیموں نے جھولوں اور اونٹ کی مفت سواری کروانے کے ذریعے بچوں تک رسائی حاصل کر لی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت کئی اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی ہے، پولیو کا خاتمہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے، ہر بچہ صحت مند اور محفوظ مستقبل کا حق رکھتا ہے، 80 ہزار ہیلتھ ورکرز اور 21 ہزار سیکیورٹی اہلکار مہم میں شریک ہیں، ویکسینیشن ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو نومولود بچوں کو آج پولیو قطرے پلائے ہیں، ایک بچے کو میں نے اور ایک کو وزیرِ صحت نے قطرے پلائے ہیں، یہاں آنے کا مقصد پولیو وائرس کو شکست دینا ہے۔
اِن کا کہنا تھا کہ پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کے لیے چیف منسٹر ہاؤس میں سیل قائم کیا ہے، سیل میں تمام تر ڈیٹا ریکارڈ کیا جائے گا اور پھر اِن والدین سے رابطہ کیا جائے گا، کوشش ہوگی والدین کو آگاہی دی جائے اور پولیو کے قطروں کی اہمیت سمجھائی جائے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کو لازمی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں اور معذوری سے بچائیں، کسی بچے کے رہ جانے پر قریبی ہیلتھ سینٹر سے رابطہ کریں، پیپلز پارٹی حکومت کا عزم کہ پولیو فری پاکستان بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ میڈیا چینلز سے گزارش ہے سب سے پہلی خبر پولیو کی نشر کریں، بدقسمتی سے کچھ لوگوں ہر چیز کو منفی بناتے ہیں، اگر اس ویکسین میں کوئی مسئلہ ہوتا تو شہید محترمہ آصفہ بھٹو کو ویکسین نہ پلاتی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے علماء، اساتذہ، سول سوسائٹی اور میڈیا سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام اور ساری سماجی شخصیات سے درخواست ہے انسدادِ پولیو مہم میں کردار ادا کریں۔
ذرائع وزارت صحت کے مطابق کراچی میں 34 ہزار سے زائد والدین نے بچوں کو انسداد پولیو کی ویکسین پلانے سے انکار کیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیو وائرس صرف دو ممالک میں رہ گیا ہے، ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ ہم پولیو وائرس کو آج تک شکست نہیں دے سکے، افسوس کے ساتھ رواں سال صوبے میں پولیو کے 9 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹس بھی فراہم کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ سندھ نے تمام اضلاع میں انسداد پولیو مہم کی مکمل نگرانی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا عالمی اداروں کے ساتھ تعاون ہے۔
اِن کا کہنا تھا کہ ضرور کوتاہیاں موجود ہیں، ان کی نشاندہی کر رہے ہیں، پوری دنیا میں پولیو ختم ہوچکا ہے، ہم ویکسین سب کو نہیں پہنچا سکے، ویکسین کے انکاری کیس بڑھ نہیں رہے کمی آرہی ہے، حکومت سندھ اور وفاقی حکومت مل کر پولیو پر کام کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ پولیو وائرس پولیو مہم پولیو کے کا کہنا بچوں کو کے قطرے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔