افغان کیمپ کی خالی زمین اور مکانات پر قبضے کا خدشہ، ڈی آئی جی کا کراچی پولیس چیف کو خط
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کراچی:
پولیس حکام نے افغان بستی میں مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کے بعد خالی ہونے والے مکانات اور زمین پر قبضےکا خدشہ ظاہر کردیا اور ڈی آئی ویسٹ نے کراچی پولیس چیف کو خط ارسال کردیا ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گلشن معمار تھانے کی حدود میں واقعے افغان کیمپ کی خالی ہونے والی زمین پر لینڈ مافیا قبضہ کرسکتی ہے۔
کراچی پولیس چیف کو باضابطہ خط میں ڈی آئی جی ویسٹ نے تجویز دی ہے کہ خالی ہونے والی زمین کے تحفظ کے لیے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، جو زمین کا سروے کرے اور ایم ڈی اے کو فوری طور پر زمین اپنے قبضے میں لینے کے اقدامات کرے۔
عرفان بلوچ کے مطابق افغان کیمپ میں 3 ہزار سے زائد مکانات تعمیر تھے، جن میں تقریباً 15 ہزار افغان شہری مقیم تھے، جن میں سے بیشتر شہری کراچی سے واپس جاچکے ہیں، تاہم اب بھی لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افغان باشندے وہاں موجود ہیں۔
ڈی آئی جی ویسٹ نے کہا کہ خالی ہونے والے گھروں اور زمین کو لینڈ کنٹرولنگ اتھارٹی فوری طور پر اپنے قبضے میں لے تاکہ کسی بھی غیر قانونی قبضے یا زمین پر تجاوزات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان خالی ہونے ڈی آئی جی
پڑھیں:
کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
— فائل فوٹومردان میں مبینہ پولیس مقابلوں میں 3 ملزمان ہلاک ہو گئے جن میں سے 2 کا تعلق کراچی سے ہے۔
پولیس کے مطابق گوجر گڑھی میں شہری سے موبائل چھین کر فرار ہونے والے اسنیچرز کا تعاقب کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ملزمان کو گھیرے میں لیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
ہلاک ملزم رضوان چند ماہ قبل لانڈھی میں ڈکیتی کی مزاحمت پر 12 سال کے بچے کے قتل اور اس کی ماں کو زخمی کرنے میں ملوث تھا: ایس ایس پی کورنگی
پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں مبینہ اسنیچرز مارے گئے جن کا تعلق کراچی سے ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق خرکی میں بھی مبینہ پولیس مقابلے میں 1 اشتہاری ملزم ہلاک ہو گیا۔