data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد( اسٹاف رپورٹر)سندھ فوڈ اتھارٹی حیدراباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اسد جہانگیر نے اپنے دفتر واقع جی او ار کالونی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ فوڈ اتھارٹی کسی کے کاروبار کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتی تاہم عوام کی صحت اور معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا غیر معیاری اشیا فروخت کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت برتی نہیں جائیگی کاروباری حضرات از خود معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ ڈاکٹر اسد جہانگیر نے کہاکہ انہوں نے اپنی تعیناتی کے ایک ماہ کے دوران حیدرآباد کے ایک بڑے ہوٹل سمیت 44 کارروائیاں میریٹ پر کی ہیں جن پر26 لاکھ 72 ہزارروپے جرمانہ عائد کیا گیا اور اب تک 27 لائسنس کی انہوں نے سالانہ تجدید کی ہے تاجربرادری کو لائسنس کا اجرا کیا جائے گا جرمانے کے حامل افراد اپنی اصلاح کرلیں تو جرمانہ معاف بھی کیا جاسکتا ہے حفظان صحت پر کوئی کمپرو مائز نہیں کیا جائے گا ۔ڈاکٹر اسد جہانگیر نے کہاکہ سندھ فوڈ اتھارٹی سے جو ماضی میں شکایت رہی ہیں انہیں ایڈریس کیا جارہا ہے ہم فوڈ اتھارٹی کو کرپشن فری کرنا چاہتے ہیں افسر یا عملے کا کوئی فرد کرپشن میں ملوث ہواتو انہیں براہ راست اطلاع کریں ہر جگہ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں فوڈ اتھارٹی میں کسی قسم کی کرپشن اور کاروباری حضرات کے ساتھ زیادتی کو برداشت نہیں کیا جائیگا اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ وزیر خوراک اور ڈائریکٹر جنرل کی انہیں سخت ہدایات ہیں کہ حیدرآباد کے عوام کو معیاری اشیا فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ ڈاکٹر اسد جہانگیر نے کہاکہ ان پر کسی قسم کا کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے انہیں حیدرآباد کی تاجر برادری اور ادارے کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ڈاکٹر اسد جہانگیر نے کہاکہ شہر میں غیر معیاری دودھ کی فروخت کو روکنے کے لیے شہر کے داخلی راستوں پر ناکے قائم کیے جائیں گے جہاں دودھ کا معیار چیک کیا جائے گا۔ ڈاکٹر اسد جہانگیر نے کہاکہ تعیناتی کے بعد ان پر بھی الزامات لگائے گئے سوشل میڈیا پر منفی کردار ادا کرنے والوں کو ایکسپوز کریں گے ۔ڈاکٹر اسد جہانگیرنے کہاکہ اس کوتاہی کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ حیدرآباد کے عوام اور کاروباری حضرات کو مؤثر آگاہی فراہم نہ کرسکے مستقبل قریب میں چیمبرز اور بڑی تاجر انجمنوں کے ساتھ آگاہی سیمینار منعقد کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو معیاری اشیا کے استعمال کے بارے میں آگاہی دی جاسکے اس کے لیے سندھ فوڈ اتھارٹی کو میڈیا کا تعاون درکار ہوگا تاہم مسائل کے حل کے لیے ان کا دفتر صبح 9 بجے سے رات 8 بجے تک کھلا ہوا ہے۔

راصب خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فوڈ اتھارٹی باد کے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف