دوحا میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل، دوسرا مرحلہ کل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دوحا میں مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ کل دوبارہ قطر کے دارالحکومت میں منعقد ہوگا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کے وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان حکام کے سامنے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغان سرزمین پر کالعدم دہشت گرد گروپوں کی موجودگی ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان نے زور دیا کہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند عناصر کی جانب سے ملک میں کی جانے والی دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر حملے کا فوری، مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے ابتدائی مذاکرات میں دونوں فریقین کے درمیان دوحا مذاکرات کے دوران سیز فائر پر اتفاق ہوا تھا، جس کی مدت مذاکرات کے اختتام تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس سے قبل صرف 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کی گئی تھی، جو گزشتہ شام 6 بجے ختم ہو گئی تھی۔
دوحا میں جاری یہ بات چیت خطے میں قیامِ امن اور سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، اور آئندہ دنوں میں ان مذاکرات کے نتائج پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔