پاکستان کا پہلا ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ، آج ہی مدار میں داخل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پاکستان نے چین کے تعاون سے نیا باب رقم کرتے ہوئے پہلا ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا۔سپارکو نے HS-1 کے کامیاب لانچ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان خلائی ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے، ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ زمین، سبزے، پانی شہری علاقوں کا تفصیلی تجزیہ کرے گا۔سپارکو نے یہ بھی بتایا کہ جدید سیٹلائٹ سینکڑوں نوری بینڈز میں درست تصاویر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ سے زرعی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نگرانی میں انقلاب کی توقع ہے۔چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے قوم کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی حمایت سے قومی منصوبہ حقیقت بن سکا۔سپارکو کے مطابق ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ سے فصلوں، مٹی اور پانی کے معیار کی درست نگرانی ممکن ہے، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور گلیشیئر پگھلنے کی مانیٹرنگ میں مدد ملے گی۔یہ بھی بتایا گیا کہ سی پیک منصوبوں میں جغرافیائی خطرات کی نشاندہی میں سپیکٹرل سیٹلائٹ معاون ہو گا، پاکستان خلائی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی جانب یہ ایک مضبوط قدم ہے۔سپارکو کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپارکو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار مزید مستحکم کر رہا ہے، ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ پاکستان کے خلائی پروگرام میں بڑی پیش رفت ہے جو ملک کو پائیدار ترقی کے لیے ابھرتے ہوئے خلائی رہنماؤں میں شامل کرے گا۔سپارکو نے اعلان کیا کہ سیٹلائٹ آج ہی اپنے مخصوص مدار میں داخل ہوجائے گا، پاکستان کی جانب سے اس سال یہ خلا میں بھیجا جانے والا تیسرا سیٹلائٹ ہے، سٹیلایٹ کی اپنے مدار میں ٹیسٹنگ کو دو ماہ لگ سکتے ہیں جس کے بعد سیٹلائٹ مکمل فعال ہو جائے گا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستانی سائنسدانوں اور ٹیکنیکل ٹیم کو خلائی سنگ میل عبور کرنے پر مبارکباد دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔