خیبر پختونخوا میں 12 سال سے موجود تبدیلی کی حکومت صرف تباہی لائی ہے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
لوئر دیر میں بنو قابل پروگرام میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی خوش آئند ہے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال گھمبیر ہے، یہاں کوئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 12 سال سے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی حکومت ہے لیکن یہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تبدیلی سرکار صرف تباہی لیکر آئی۔ لوئر دیر میں بنو قابل پروگرام میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی خوش آئند ہے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال گھمبیر ہے، یہاں کوئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں، افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرے، طالبان حکومت انڈیا کی ہمدرد نہ بنے کیونکہ انڈیا کبھی بھی افغانستان کا ساتھ نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے جو درست نہیں، حکومت کہتی ہے کہ ہمارے خلاف بات نہ کرو، جلوس نہ نکالو جلسے نہ کرو، ان اقدامات کی وجہ سے عوام اور ریاست میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 37 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، بنو قابل پروگرام کے تحت 20 لاکھ نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز پڑھا رہے ہیں، ان نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرینگے تاکہ یہ نوجوان اپنے والدین کا سہارا بنیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اپنے شہریوں کو مفت تعلیم دے، ملک میں 3 کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں، پنجاب میں 1 کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، حکومت نے اگر نوجوانوں کو روزگارنہ دیا اور جدید تعلیم نہ دی تووہ وقت دور نہیں کہ نوجوان حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار پر کام کر سکتی ہیں تو حکومت کیوں نہیں، بنو قابل پروگرام میں ٹاپ کرنے والے طلباء و طالبات کو روزگار کیلئے بیرون ممالک بھجوایا جائے گا، ان کی ڈگری کی تکمیل میں مالی مدد بھی کریں گے۔ پاکستان دنیا کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن نااہل حکمران اس طرف توجہ نہیں دیتے اور آپس کی لڑائیوں سے فرصت نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن نے کہا خیبر پختونخوا میں بنو قابل پروگرام نے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان