غزہ: زندگی کی آوازیں لوٹ آئی ہیں مگر کب تک؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
افتخار گیلانی
پورے دو سالوں کے بعد غزہ کے فلسطینی مکین سمندر کی لہروں، پرندوں اور اپنے بچوں کی آوازیں سن پا رہے ہیں۔اسرائیلی بمباری، دھماکوں، چیخوں اور زخمیوں کے کراہوں کے درمیان لوگ زندگی کی علامتی آوازیں بھول گئے تھے ۔ غزہ میں موجود صحافی احمد درمَلی مجھے بتا رہے تھے کہ بارود کی گھن گرج میں وہ بحیرہ روم کی لہروں کی گرج کو بھول چکے تھے ۔اسی طرح چوبیس سالہ فلسطینی ماں وِیام المصرِی بتار رہی تھی کہ جنگ بندی کے بعد اب وہ پہلی بار اپنے دو ماہ کے بیٹے سمیح کے رونے کی آواز سن پارہی ہے ۔ جب اسرائیل اور حماس نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں امن دستاویز پر دستخط کیے ، جو غزہ سے صرف 300 کلومیٹر دور ہے ، تو میزائلوں کی سائیں سائیں اور ڈرون کے شور نے پہلی بار خاموشی اختیار کی، جو فلسطینیوں کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔درملی بتارہے تھے کہ اکتوبر 2023 سے قبل وہ اکثر ساحل پر چہل قدمی کرنے آتے تھے ۔ مگردوسال سے ہر لمحہ بھاگ دوڑ سے اور بس اس قدر سوچنے تک محدود رہا کہ کیسے جسم و روح کا رشتہ برقرار رہے ۔وِیام کا کہنا تھا کہ یہ سکون اُن لوگوں کے لیے نعمت ہے جنہوں نے دو برس تک موت کی گرج سنی ہو۔ سب سے بھیانک ڈرونز کی آوازیں ہوتی تھیں؛وہ بار بار ہمارے خیمے کے بالکل اوپر آ کر رک جاتے تھے ۔ نیچے پہلے تو سبھی کی سانسیں رک جاتی تھیں، پھر نفسا نفسی کے عالم میں کچھ سنائی نہیں دیتا تھا اور اسی دوران ڈرون کسی کے اوپر بم گرا کر یا گولیوں کی بوچھاڑ کرکے اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا تھا۔اب میں کھجور کے درختوں کی شاخوں پر موجود چڑیوں کی آوازیں سن سکتی ہوں۔ میں اپنے بچے کی آواز سن سکتی ہوں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی،جسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کا پہلا مرحلہ کہا جا رہا ہے ،نے فی الحال فضائی اور زمینی حملے روک دیے ہیں۔ اسرائیلی افواج طے شدہ حدود کے اندر پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ماہرین کہتے ہیں یہ امن نہیں، بلکہ ایک وقفہ ہے ۔ مگر غزہ کے لیے ، وقفہ بھی زندگی ہے ۔دوپہر تک ساحلی الرشید سڑک لوگوں سے بھری تھی۔ مرد، عورتیں، بچے پیدل، ٹرکوں، سائیکلوں اور موٹر بائکوں پر سوار رواں تھے ۔پچھلے دو سال سے اسرائیلی قبضہ کے بعد اس سڑک پر چلنے کی ممانعت تھی۔ ان دوسالوں میں غزہ کے محلے مٹ چکے ہیں۔ زمینیں بنجر ہو چکی ہیں۔’زرقہ، النَّزہ، الغُباری، جبالیا البلد سب محلّے کھنڈرات بن چکے ہیں۔ہر گفتگو موت کے حساب سے شروع ہوتی ہے : دو برسوں میں 67,000 سے زیادہ ہلاک اور 169,000 زخمی، مقامی صحت حکام کے مطابق۔ ہزاروں لاپتہ اب بھی ملبے کے نیچے دفن ہیں۔ جنگ بندی کے بعد بھی سول ڈیفنس اہلکاروں نے اب لاشیں نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے ۔امدادی ایجنسیاں کہتی ہیں کہ اگر تمام کراسنگز کھل گئیں تو روزانہ 600 ٹرک تک خوراک اور سامان داخل ہو سکتا ہے ۔اسرائیلی محاصرے کے دوران بھوک اور غذائی قلت سے 463 افراد جن میں 157 بچے تھے جاں بحق ہوئے ۔کھیتوں تک رسائی ممکن نہیں، اسکولوں کی عمارتیں ملیامیٹ ہیں، ہر یونیورسٹی کو نقصان تباہ کردیا گیا ہے ۔ غزہ کی 95 فیصد آبادی بے گھر ہے ۔بیشتر افراد کو ایک سے زائد باربمباری سے بچنے کیلئے نقل مکانی کرنی پڑی ہے ۔ساحل کے پاس 73 سالہ ماہی گیر احمد الحِصّی اپنے جال کی مرمت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اُسے ‘امن کی آوازیں ‘دوبارہ سیکھنے میں وقت لگے گا۔اُس کا بیٹا خالد نومبر 2023 میں بندرگاہ کے قریب اسرائیلی بحریہ کی گولہ باری میں مارا گیا، اور خالد کی بیوی ثریا کچھ دن بعد اسرائیلی بمباری کی وجہ سے عمارت گرنے سے جاں بحق ہو گئی۔ اُن کے تین بچے صرف اس لیے بچ گئے کہ وہ نچلی منزل پر تھے ۔’راتوں کو ہم دھماکوں سے جاگ اٹھتے اور بچوں کو سینے سے لگا لیتے ۔ ہر آواز موت کا اشارہ لگتی تھی۔ اسی لیے آج کا سکون غیر حقیقی لگتا ہے ۔’
یہ جنگ بندی کاغذ پر سادہ مگر عمل میں پیچیدہ ہے ۔ابھی تک پہلا مرحلہ بخوبی طے پا گیا ہے ، کیونکہ اس میں زیادہ تر شرائط حماس کو پوری کرنی تھیں۔ مگر جب شرطوں کو پور ا کرنے کی باری اسرائیل کے پاس آجائے گی، تو اس کے ماضی کے طرزعمل کو مد نظررکھتے ہوئے شاید ہی وہ امن کو دائمی بنانے میں مدد دے گا۔حماس نے اپنی تحویل میں تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے ۔ اسرائیل نے بھی اس کے بدلے دوہزار فلسطینی قیدی رہا کر دیے ہیں۔اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت تقریباً 11 ہزار فلسطینیوں قید ہیں۔اس منصوبے میں اب مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، ایک بین الاقوامی’استحکام فورس’کا قیام، اور عبوری سول انتظامیہ کی تشکیل شامل ہے جو اس دوران غزہ کا نظم سنبھالے گی۔
انقرہ میں ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے واضح کردیا کہ ‘سیز فائر کے بعد غزہ کو 7 اکتوبر 2023 کی پہلے والی پوزیشن میں نہیں لایا جائے گا۔ کیونکہ جنگ کے اسباب ہی وہ حالات تھے ۔’انہوں نے کہا کہ ترکیہ امریکہ، قطر، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ زمینی سطح پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔ خارجہ پالیسی کے ماہر رمزی چَتین نے اخبار جمہوریت کو بتایا کہ یہ بندوبست پہلے کی مختصر جنگ بندیوں سے مختلف ہے ،کیونکہ پچھلی جنگ بندیوں کے برعکس اس وقت امریکی صدر براہ راست اس میں شریک ہے ۔اس لیے اسرائیل کے لیے انسانی سانحہ مزید جاری رہنا ممکن نہیں لگتا۔اسرائیلی پارلیامنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ تسلیم کیا کہ اسرائیل عالمی برادری میں الگ تھلگ ہو گیا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا کہ اسرائیل پوری دنیا کے ساتھ مخاصمت نہیں رکھ سکتا ہے ۔ مغربی ممالک کے شہروں میں پہلی بار اسرائیل کے خلاف منظم احتجاج ہوئے ۔
آخر جنگ بندی کا معاہدہ کیسے تشکیل پایا؟ دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی کو 29 ستمبر کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ایک غیر متوقع فون کال موصول ہوئی۔نیتن یاہو اس وقت وہائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ۔ ان کو ٹرمپ نے اپنی موجودگی میں قطری وزیر اعظم سے معذرت کرنے کے لیے کہا۔سفارت کاروں کے مطابق اس قدم نے ثالثوں کو دوبارہ متحرک ہونے کا موقع دیا، جو پیش رفت سے تقریباً مایوس ہو چکے تھے ۔اس بات چیت کے دوران اور قطری وزیر اعظم کی منانے کے بعد ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور داماد جیرڈ کُشنر نے عجلت میں 20 نکاتی منصوبہ مرتب کیا، جو پرانے تجاویز سے جوڑ کر ایک ایسی ضمانت کے ساتھ پیش کیا گیا جسے صدر ٹرمپ اسرائیلی سخت گیر حلقوں کے سامنے قابلِ قبول بنا سکیں۔ 23 ستمبر کو یہ خاکہ عرب اور اسلامی رہنماؤں کے ساتھ شیئر کیا گیا، مگر اسرائیلی درخواست پر اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی۔ قطر، مصر اور ترکیہ کے ثالثوں کو شرم الشیخ پہنچنے کے لیے کہا گیا۔
حماس نے معاہدے کے کچھ حصوں کو قبول کرنے کے اشارے دیے ، لیکن ‘جنگ کے بعد کی صورتِ حال’پر اختلاف کیا۔ جس کی وجہ سے امریکیوں نے قیدیوں کے تبادلے کے معاملے کو سیاسی پیش رفت سے الگ کر دیا۔ فریقین کو بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ خود سیاسی پیش رفت کے ضامن ہوں گے ۔ ترکیہ اور سعودی عرب نے حماس کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسرائیل کو دوبارہ قبضہ جمانے نہیں دیں گے ۔ادھر اسرائیل میں کُشنر اور وِٹکوف کو نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو خطاب کرنے اور سخت گیر عناصر کو منانے کی ذمہ داری دی۔ کچھ وزرا نے تعریف، تو چند نے مخالفت کی۔لیکن نصف شب کے بعد کابینہ نے پہلے مرحلے کی توثیق کر دی۔مگر ایک بڑا سوال ہے کہ آگے کیا ہوگا؟امریکی مرکزی کمان (سی ای این ٹی سی او ایم) اب غزہ کے باہر ایک ٹاسک فورس تیار کر رہی ہے جو اُس بین الاقوامی استحکام فورس کی مدد کرے گی جس کا ذکر منصوبے میں ہے ۔ابھی ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ، جو اس فورس میں شامل ہوں گے ۔ انڈونیشیا نے فی الحال فوج دینے کی پیشکش کی ہے اور دیگر سے بات چیت جاری ہے ۔معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ حماس غزہ پر حکمرانی نہیں کرے گی۔مگر مبصرین کہتے ہیں کہ وہ ایک سماجی قوت کے طور پر بدستور موجود رہے گی، اور کوئی منصوبہ اسے نظرانداز نہیں کر سکتا ہے ۔ویسے مارچ میں حماس کے معتبر ذرائع نے راقم کو بتایا تھا کہ ان کے لیڈران غزہ کی حکمرانی سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں، اگر انتظامیہ کسی قابل اعتماد فلسطینی شخصیت کے سپرد کی جائے ۔ 23 جولائی 2024 کو بیجنگ میں چودہ فلسطینی دھڑوں بشمول فتح اور حماس نے ایک مصالحتی معاہدے پر دستخط کیے تھے ، جس میں مشترکہ قیادت کی تشکیل کی بات کی گئی۔اس دوران اسرائیلی جیل میں 2002 سے قید الفتح سے وابستہ سیکولر لیڈر مروان برغوتی کا نام نمایا امیدوار کے طور پر ابھرا۔ طے تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی سربراہ محمود عباس اور حماس کے لیڈران ایک ساتھ مستعفی ہوکر متحدہ فلسطین کی عبوری قیادت برغوتی کے سپرد کریں گے ۔
جنوری کی قلیل المدتی جنگ بندی کے دوران، جب حماس نے اسرائیل کو فلسطینی قیدیوں کی فہرست دی، برغوتی کا نام سب سے اوپر رکھا گیاتھا۔ لیکن حماس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محمود عباس نے ذاتی طور پر اس کی رہائی روکنے کے لیے اسرائیلی حکام پر دباؤ ڈالا۔عباس نے یہاں تک کہا کہ اگر برغوتی کو رہا کیا گیا تو اُسے ملک بدر کر دیا جائے اور مغربی کنارے واپس نہ آنے دیا جائے ۔برغوتی کی اہلیہ، فدویٰ البرغوتی، نے بھی اس کی تصدیق کی۔فلسطینیوں کے لیے ، چاہے وہ اسلام پسند ہوں یا سیکولر، مروان برغوتی ایک وحدت کی علامت بن چکے ہیں اور ان کو فلسطینی منڈیلا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اُن کی رہائی فلسطینی سیاست کو ازسرِ نو زندہ کر کرکے خطے کا نقشہ بدل سکتی ہے ۔اس جنگ بندی کے اثرات غزہ سے آگے تک پھیل گئے ہیں۔لبنان میں حزب اللہ، جو اسرائیل سے سرحدی جھڑپوں میں مصروف تھی، نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نرمی اور نئی شراکت کی بات کی ہے ۔ حزب اللہ کے لیڈران کا کہنا ہے کہ اُن کے ہتھیار صرف اسرائیل کی طرف ہیں۔یمن میں حوثی تحریک نے بھی اشارہ دیا کہ وہ اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے روک دے گی، بشرطیکہ وہ غزہ کی جنگ بندی کا احترام کرے ۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بحیرہ احمر میں حملوں نے حوثیوں کو اندرونی اور عالمی سطح پر’مزاحمت’کا ایک بیانیہ دیا۔اب یہ وقفہ اُنہیں اپنی کامیابیاں مستحکم کرنے کا موقع دے گا۔مگر ٹرمپ کا منصوبہ غزہ سے آگے بھی بڑھتا ہے ۔تل ابیب اور شرم الشیخ میں انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر جنگ بندی مستحکم رہی تو’ابراہام معاہدے ‘کو مزید ممالک تک پھیلایا جا سکتا ہے ۔ خیر غزہ میں لوگ تاریخ کو انسانی پیمانوں پر ناپنا سیکھ چکے ہیں۔ایک شخص جو گھٹنوں پر جال رکھ کر دوبارہ مچھلی پکڑنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ایک رضاکار جو چمچ کی کھنک سے دیگ سے کھانا نکال کر بانٹ رہا ہے ۔ ایک رپورٹر جو سمندری لہروں کی آوازوں کو دوبارہ سن رہا ہے ۔ ایک باپ جو ا پنے مسمار شدہ گھر کی ایک بچی ہوئی دیوار کے سامنے کھڑا ہو کر اُن ہاتھوں کو یاد کرتا ہے جنہوں نے اینٹیں رکھی تھیں۔حماس کہتی ہے کہ وہ حکومت نہیں کرے گی مگر فلسطینی معاشرے کا حصہ رہے گی۔
فلسطینی انتظار کررہے ہیں کہ کیا وہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح معمول کی زندگی بسر کرپائیں گے ۔ ماہرین کہتے ہیں: سیز فائر کوئی حل نہیں،صرف ایک موقع ہے ۔جنگ بندی تبھی پائیدار ہوگی، جب زندگی کی آوازیں لوٹ آئیں گی۔اگر وعدے کے مطابق خوراک اور دوا آتی ہے ، تو بھوک کوشکست دی جا سکتی ہے ۔لیکن اس کے لیے سرحدوں کا کھلا رہنا، راستوں کا محفوظ ہونا، اور ایندھن و تنخواہوں کی فراہمی ضروری ہے ۔لوگ اپنے کھنڈر جیسے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ غیر پھٹے بارودی مواد کو صاف کرنے میں مہینے ، شاید سال لگیں گے ۔بہت سے خاندان تو اس جنگ کے دوران اپنے پیاروں کا سوگ بھی نہیں منا پائے ۔ فلسطینی ماں وِیام کے کانوں میں اب بھی اُس دھماکے کی آواز یں گونج رہی ہیں، جس نے اُس کے چھ بھائی بہنوں، چاچی اور بھانجی کو ہلاک کردیا۔ جنگ کے 36ویں دن اس کے خاندان کو قتل کیا گیا۔ وہ اوراس کی جڑواں بہن وسام زخمی ہو گئی تھی۔اب وہ اپنے بیٹے سمیح کو سُلانے کے لیے قرآن کی تلاوت کرتی ہے ۔ ‘پچھلے دو سالوں میں ہر آواز موت کی علامت بن گئی تھی۔ سوچو، جب تمہاری دنیا میں صرف تباہی کی آوازیں ہوں،تمہیں لگتا ہے موت تمہارے ساتھ سانس لے رہی ہے ۔’یہ جنگ بندی ایک سانس لینے کا وقفہ ہے ، وہ ابھی اسے ‘زندگی’کہنے کی ہمت نہیں کرپاتی ہے ۔
غزہ کی ہر پناہ گاہ میں ایک کہانی ہے ، اور ہر کہانی میں ایک مخصوص آواز ہے ۔ کسی کے لیے وہ سیٹی جو بم گرنے سے پہلے آتی ہے ،کسی کے لیے جھٹکے سے بند ہوتے دروازے ،کسی کے لیے کتوں کا بھونکنا جو توپ خانے کی آگ کو پہچاننا سیکھ گئے تھے ۔احمد الحِصّی اپنے بیٹے کی آخری خوف ناک چیخ کو یاد کرتے ہیں۔ جنگیں ملبہ چھوڑتی ہیں، اور گونج بھی۔جنگ بندیاں نہ ملبہ مٹاتی ہیں نہ گونج۔شام ڈھلتے ہی غزہ کے المَواسی کے خیموں میں موبائل اسکرینوں اور چولہوں کی روشنی پھیل گئی ہے ۔دور ایک جنریٹر کھنکھنارہا ہے ۔یہ ڈرونز کا شور نہیں، بلکہ ایک عام مشین کی عام آواز ہے ۔ایک جنگ بندی نہ مردوں کو واپس لا سکتی ہے ، نہ مٹی میں بکھرے شہر کو جوڑ سکتی ہے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں کر سکتی کہ رہنما کیا رخ اختیار کریں گے ۔ لیکن یہ ایک لمحے کے لیے موقع دیتی ہے کہ انسان زندہ رہنے کی وہ آوازیں سنے جو بمباری میں دب گئی تھی،جیسے بچے کی سانس، کیتلی کی سیٹی، اور گھر لوٹتے لوگوں کا ہجوم۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جنگ بندی کے نیتن یاہو کی آوازیں کے دوران کو بتایا اور حماس کہتے ہیں کی آواز سکتی ہے گئی تھی حماس کے کے ساتھ چکے ہیں سکتا ہے کیا گیا کا کہنا نہیں کر ہے کہ ا جنگ کے کے بعد کسی کے ہیں کہ کر دیا رہا ہے کے لیے غزہ کی غزہ کے
پڑھیں:
قابلِ فخر سعد ایدھی
کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔
سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔
اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔
غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔
یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔
ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔
بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔
سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔
انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔