شوگر ملز کے پورٹلز بند‘ چینی کی شدید قلت‘ قیمتوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
لاہور (کامرس رپورٹر) حکومت کی جانب سے شوگر ملز کے پورٹلز بند کرنے کے فیصلے سے چینی کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور قیمتیں نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ مقامی چینی فی الحال ملک کے مختلف علاقوں میں دستیاب نہیں اور پہلے سے دستیاب سٹاک کو پریمیم قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے، جو کئی علاقوں میں 210 روپے سے 220 روپے کلو تک ہے۔ ڈیلرز نے صورت حال کو تشویشناک قرار دیا۔ شوگر مل مالکان نے خبردار کیا کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو قیمتوں کو 230-250 روپے کلوگرام تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایک شوگر مل مالک نے بتایا کہ ہفتہ 18 اکتوبر کو فْوڈ سکیورٹی وزیر رانا تنویر سے شوگر ملز ایسوسی ایشن کی مْلاقات ہْوئی تھی اْس میں رانا تنویر نے جو تجاویز بھی دیں شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مان لیں اس پر رانا تنویرنے کہا کہ پورٹل کل کْھل جائے گا مگر ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا اور پْورٹل بدستور بند ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پورٹل کی بندش سے ڈیلر 165 روپے کلو والی چینی لاہور فیصل آباد اْور دوسرے شہروں میں 180/190 روپے کلو پْہنچ بیچ رہے ہیں۔ ڈیلر حضرات طاقتور لوگوں کے ساتھ مل کر ناجائز نفع کما رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شوگر ملز
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔