26 نومبر احتجاج کیس: پانچویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج کیس میں پانچویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت کی۔
علیمہ خان ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود آج بھی عدالت پیش نہیں ہوئیں۔
عدالت نے علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 اکتوبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
علیمہ خان کا کوئی وکیل بھی عدالت پیش نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے پانچویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے نادرا، پاسپورٹ امیگریشن اور اسٹیٹ بینک سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
علیمہ خان کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹس پہلے ہی بلاک کرنے کا حکم جاری ہو چکا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری عدالت نے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔