انوار الحق کا ایک مرتبہ پھر مستعفی ہونے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر نے تحریک عدم اعتماد کا سامنے کرنے کا فیصلہ کرلیا، پاکستان پیپلزپارٹی نے تاحال قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع نہ کرائی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے تاحال وزارت عظمی کے امیدوار کا بھی اعلان نہ کیا گیا، قانون ساز اسمبلی کا اجلاس اگلے 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی وقت طلب کئے جانے کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے ایک مرتبہ پھر مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے تحریک عدم اعتماد کا سامنے کرنے کا فیصلہ کرلیا، پاکستان پیپلزپارٹی نے تاحال قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع نہ کرائی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے تاحال وزارت عظمی کے امیدوار کا بھی اعلان نہ کیا گیا، قانون ساز اسمبلی کا اجلاس اگلے 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی وقت طلب کئے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب اسمبلی اجلاس بلانے کے حوالے سے انتظامات مکمل کر لئے گئے، قانون ساز اسمبلی کا انتظامی عملہ اسمبلی سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔
جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے واحد رکن اسمبلی حسن ابراہیم نے بھی مسلم لیگ نون کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خیال رہے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 52 کے ایوان میں وزیراعظم بنانے یا ہٹانے کے لئے 27 ووٹ چاہے جو پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس موجود ہیں جب کہ نون لیگ کے 9 اور جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد قانون ساز اسمبلی کا فیصلہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔