فیلڈ مارشل کا دورہ اردن: شاہ عبداللہ سے ملاقات‘دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-08-13
راولپنڈی(آن لائن)پاکستان اور اردن نے فوجی و دفاعی شعبوںمیں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے اورشاہ عبداللہ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیاہے۔فیلڈ مارشل نے پاکستان کے عوام، حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے شاہ عبداللہ کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار پہنچایا، اور پاکستان کی جانب سے اردن کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات کے لئے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا۔آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ اردن کے دوران اردن کے شاہ عبداللہ دوئم اور اردن کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف میجر جنرل یوسف احمد سے ملاقاتیں کیں۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ اردن کے دوران اردن کے شاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات کی، اردن کے ولی عہد شہزادہ الحسن بن عبداللہ دوئم بھی ملاقات میں موجود تھے، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کہا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر شاہ عبداللہ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور علاقائی امن و استحکام کے لئے کاوشوں کو سراہا، شاہ عبداللہ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا، قبل ازیں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اردن کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف میجر جنرل یوسف احمد سے بھی ملاقات ہوئی، آرمی چیف اور اردنی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی ملاقات جنرل ہیڈ کوارٹرز اعمان میں ہوئی، جنرل ہیڈ کوارٹرز عمان پہنچنے پر آرمی چیف کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ادرنی مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہ عبداللہ نے پاکستان مسلح افواج فیلڈ مارشل ا رمی چیف اردن کے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔