خودکشیوں کا سونامی، اسرائیلی فوج کی باضابطہ رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: یہ واقعات محض ذاتی کمزوری نہیں بلکہ ریاستی بحرانِ وجدان (crisis of conscience) کا اظہار ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی اصل شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اپنے فوجیوں کے ذہن و دل میں رونما ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کی خودکشیوں میں اضافہ صرف ایک نفسیاتی بحران نہیں بلکہ سیاسی و اخلاقی زوال کی علامت بھی ہے۔ غزہ جنگ نے اسرائیل کے فوجی بیانیے یعنی طاقت کے ذریعے سلامتی کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ اب نہ صرف دشمن بلکہ خود اسرائیلی سپاہی بھی اپنے ضمیر کے خلاف لڑنے کی اذیت برداشت نہیں کر پا رہے۔ خصوصی رپورٹ:
کنیست کے مرکزِ اطلاعات و تحقیقات نے ایک باضابطہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی فوج میں خودکشیوں کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، اور ان فوجیوں کے علاوہ جو خودکشی کر چکے ہیں، سینکڑوں ناکام خودکشیوں کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک صہیونی اداروں کی جانب سے متعدد رپورٹس میں فوج کے اندر خودکشیوں میں غیر معمولی اضافے کی نشاندہی کی جا چکی ہے، اور اب ایک سرکاری اسرائیلی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پچھلے 18 مہینوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں میں خودکشی اور خودکشی کی کوششوں کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جو فوج کے اندر نفسیاتی بحران کی بے مثال شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کی تفصیلات:
یہ رپورٹ کنیست کے مرکزِ تحقیقات و اطلاعات نے عوفر کسیف (Knesset Member Ofer Cassif) کی درخواست پر تیار کی۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان 279 فوجیوں نے خودکشی کی کوشش کی۔ اعداد و شمار کے مطابق خودکشی سے متعلق معلومات کا منظم ریکارڈ پہلی بار سال 2024 میں جمع کیا گیا۔ ان میں سے 12 فیصد واقعات کو سنگین اور 88 فیصد کو درمیانہ نوعیت کا قرار دیا گیا۔ رپورٹ نے طویل المدت اعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں، جن کے مطابق 2017 سے جولائی 2025 کے درمیان 124 فوجی خودکشی کے نتیجے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ان میں سے 68٪ عام فوجی، 21٪ ریزرو فوجی، اور 11٪ پیشہ ور افسران تھے۔
خودکشیوں میں نمایاں اضافہ
رپورٹ کے مطابق ریزرو فوجیوں میں خودکشیوں کی شرح سال 2023 سے نمایاں طور پر بڑھی۔ 2017 تا 2022 کے دوران فوج میں خودکشیوں کا تناسب 42 تا 45 فیصد کے درمیان رہا۔ 2023 (غزہ جنگ سے قبل) میں یہ شرح 17 فیصد تک گر گئی تھی۔ مگر 2024 میں دوبارہ بڑھ کر 78 فیصد تک پہنچ گئی۔ عبرانی ویب سائٹ شومریم کے مطابق پچھلے ایک سال میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر فوجی ریزرو دستوں سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم فوج کا دعویٰ ہے کہ چونکہ غزہ جنگ کے آغاز سے ریزرو فوجیوں کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے، اس لیے خودکشی کی شرح قابلِ تشویش نہیں۔
لیکن ماہرین اس وضاحت کو گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔ روپین یونیورسٹی کے مرکزِ تحقیقِ خودکشی کے سربراہ پروفیسر یوسی لوی بلاس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں خودکشیوں کے اعداد و شمار واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم مستقبل میں ایک بڑے خودکشی کے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر بلاس نے مزید کہا 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی فوجیوں کو احساس ہوا کہ وہ ایک بہت بڑے دشمن کے مقابل ہیں، نہ صرف خارجی بلکہ اندرونی نفسیاتی دشمن کے بھی۔ ریزرو فوجی اس جنگ کے دوران انتہائی حد تک کمزور ہو چکے ہیں، اور آج بھی اختلالِ اضطراب پس از سانحہ (PTSD) سے نبرد آزما ہیں۔ ہم موجودہ دور میں اور جنگ کے بعد بھی خودکشیوں کی ایک نئی لہر دیکھیں گے، کیونکہ ان فوجیوں کے لیے جنگ میں پیش آنے والے تجربات کو برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔
| 2017–2022 | 42–45٪ | نسبتاً مستحکم دور |
| 2023 | 17٪ | جنگِ غزہ سے قبل کمی |
| 2024 | 78٪ | غزہ جنگ کے بعد اچانک اضافہ |
نفسیاتی معاونت کی کمی
اعداد و شمار کے مطابق صرف 17 فیصد فوجی جنہوں نے خودکشی کی، جنگ سے قبل کسی ماہرِ نفسیات یا فوجی ذہنی صحت کے افسر سے ملاقات کر چکے تھے، جو فوج کے اندر نفسیاتی معاونت کے شدید فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان کیسوں پر مشتمل ہیں جو فوج کے نفسیاتی ماہرین کے پاس باضابطہ طور پر رپورٹ ہوئے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق 10 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی اس وقت ذہنی صحت کے مسائل اور اختلالِ اضطرابِ پس از سانحہ (PTSD) میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے صرف 3769 فوجیوں کو ماہرین کی جانب سے خصوصی علاج فراہم کیا جا رہا ہے، جب کہ باقی افراد عمومی یا ناکافی دیکھ بھال پر ہیں۔
صہیونی چینل کان (KAN) کی رپورٹ
اسرائیلی چینل کان نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ان اعداد و شمار کی اہمیت یہ ہے کہ ہر اُس فوجی کے مقابلے میں جو خودکشی کر چکا ہے، سات ناکام خودکشیوں کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
کنیست ارکان، ماہرینِ نفسیات اور فوجی حکام کے اعترافات
1۔ اسرائیلی کنیست کے رکن عوفر کسیف نے ہی اس رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خودکشیوں کی یہ وبا جو غالباً جنگ کے خاتمے کے بعد مزید بدتر ہو جائے گی، اس بات کی متقاضی ہے کہ فوجی مرد و خواتین کے لیے حقیقی نفسیاتی و سماجی معاونت کے نظام قائم کیے جائیں، اور سب سے بڑھ کر، ان جنگوں کا خاتمہ کیا جائے جنہوں نے یہ بحران پیدا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت جو اپنے سپاہیوں کو جنگ اور قید میں دھکیل کر پھر انہیں تنہا چھوڑ دیتی ہے، دراصل اپنے ہی فوجیوں کے خلاف جنگ کر رہی ہوتی ہے۔
2۔ وزارتِ جنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور شعبۂ منصوبہ بندی کے سربراہ ایتمار گراف نے خودکشیوں کے بڑھتے رجحان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف منصوبے اور نفسیاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو فوجیوں کے کیسز کی نگرانی کر رہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے خودکشی کے قابلِ ذکر واقعات بدستور موجود ہیں، اور ہم اس رجحان کے مسلسل بڑھنے کے گواہ ہیں، ہر ایک خودکشی دراصل ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔
3۔ اسرائیل میں برائے زندگی نامی تنظیم کے بانی اور ممتاز ماہرِ نفسیات پروفیسر ہاگای ہرمس نے کہا ہے کہ فوج میں خودکشیوں سے متعلق پیش کردہ اعداد و شمار دراصل آئیس برگ کی صرف چوٹی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل میں ہر سال 500 سے 700 افراد خودکشی کرتے ہیں، جن کی اکثریت کی خبریں میڈیا میں ظاہر ہی نہیں ہوتیں، فوج میں خودکشی کے واقعات مجھے ذاتی طور پر تکلیف دیتے ہیں کیونکہ میرا اپنا بیٹا فوجی خدمت کے دوران خودکشی کر بیٹھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے سب سے بنیادی قدم یہ ہے کہ درست اور شفاف معلومات فراہم کی جائیں تاکہ سماج اور ادارے مسئلے کی اصل گہرائی کو سمجھ سکیں۔
نتیجہ
یہ بیانات اسرائیلی فوج کے اندر گہرے اخلاقی، نفسیاتی، اور تنظیمی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ غزہ کی جنگ نے نہ صرف اسرائیل کی عسکری طاقت کی محدودیت کو ظاہر کیا، بلکہ اس کے فوجیوں کے ضمیر اور ذہنی استحکام کو بھی شدید طور پر مجروح کیا۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران ریزرو فوجیوں میں خودکشیوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، یہ وہ افراد ہیں جنہیں معمولی تربیت کے بعد طویل عرصہ کے لیے محاذ پر رکھا گیا۔ کنیست کی رپورٹ ایک عسکری ادارے کے اندرونی زوال کا آئینہ ہے۔
خودکشی کے یہ واقعات محض ذاتی کمزوری نہیں بلکہ ریاستی بحرانِ وجدان (crisis of conscience) کا اظہار ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی اصل شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اپنے فوجیوں کے ذہن و دل میں رونما ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کی خودکشیوں میں اضافہ صرف ایک نفسیاتی بحران نہیں بلکہ سیاسی و اخلاقی زوال کی علامت بھی ہے۔ غزہ جنگ نے اسرائیل کے فوجی بیانیے یعنی طاقت کے ذریعے سلامتی کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ اب نہ صرف دشمن بلکہ خود اسرائیلی سپاہی بھی اپنے ضمیر کے خلاف لڑنے کی اذیت برداشت نہیں کر پا رہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فوج میں خودکشیوں فوج میں خودکشی اسرائیلی فوج خودکشیوں میں خودکشیوں کا خودکشیوں کے خودکشیوں کی فوج کے اندر ریزرو فوجی غزہ جنگ کے خودکشی کی فوجیوں کے خودکشی کے نہیں بلکہ کے دوران رپورٹ کے کے مطابق کی شرح کے لیے کے بعد جو فوج
پڑھیں:
گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔
سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔
حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی
یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔
یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں