خودکشیوں کا سونامی، اسرائیلی فوج کی باضابطہ رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: یہ واقعات محض ذاتی کمزوری نہیں بلکہ ریاستی بحرانِ وجدان (crisis of conscience) کا اظہار ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی اصل شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اپنے فوجیوں کے ذہن و دل میں رونما ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کی خودکشیوں میں اضافہ صرف ایک نفسیاتی بحران نہیں بلکہ سیاسی و اخلاقی زوال کی علامت بھی ہے۔ غزہ جنگ نے اسرائیل کے فوجی بیانیے یعنی طاقت کے ذریعے سلامتی کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ اب نہ صرف دشمن بلکہ خود اسرائیلی سپاہی بھی اپنے ضمیر کے خلاف لڑنے کی اذیت برداشت نہیں کر پا رہے۔ خصوصی رپورٹ:
کنیست کے مرکزِ اطلاعات و تحقیقات نے ایک باضابطہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی فوج میں خودکشیوں کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، اور ان فوجیوں کے علاوہ جو خودکشی کر چکے ہیں، سینکڑوں ناکام خودکشیوں کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک صہیونی اداروں کی جانب سے متعدد رپورٹس میں فوج کے اندر خودکشیوں میں غیر معمولی اضافے کی نشاندہی کی جا چکی ہے، اور اب ایک سرکاری اسرائیلی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پچھلے 18 مہینوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں میں خودکشی اور خودکشی کی کوششوں کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جو فوج کے اندر نفسیاتی بحران کی بے مثال شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کی تفصیلات:
یہ رپورٹ کنیست کے مرکزِ تحقیقات و اطلاعات نے عوفر کسیف (Knesset Member Ofer Cassif) کی درخواست پر تیار کی۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان 279 فوجیوں نے خودکشی کی کوشش کی۔ اعداد و شمار کے مطابق خودکشی سے متعلق معلومات کا منظم ریکارڈ پہلی بار سال 2024 میں جمع کیا گیا۔ ان میں سے 12 فیصد واقعات کو سنگین اور 88 فیصد کو درمیانہ نوعیت کا قرار دیا گیا۔ رپورٹ نے طویل المدت اعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں، جن کے مطابق 2017 سے جولائی 2025 کے درمیان 124 فوجی خودکشی کے نتیجے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ان میں سے 68٪ عام فوجی، 21٪ ریزرو فوجی، اور 11٪ پیشہ ور افسران تھے۔
خودکشیوں میں نمایاں اضافہ
رپورٹ کے مطابق ریزرو فوجیوں میں خودکشیوں کی شرح سال 2023 سے نمایاں طور پر بڑھی۔ 2017 تا 2022 کے دوران فوج میں خودکشیوں کا تناسب 42 تا 45 فیصد کے درمیان رہا۔ 2023 (غزہ جنگ سے قبل) میں یہ شرح 17 فیصد تک گر گئی تھی۔ مگر 2024 میں دوبارہ بڑھ کر 78 فیصد تک پہنچ گئی۔ عبرانی ویب سائٹ شومریم کے مطابق پچھلے ایک سال میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر فوجی ریزرو دستوں سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم فوج کا دعویٰ ہے کہ چونکہ غزہ جنگ کے آغاز سے ریزرو فوجیوں کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے، اس لیے خودکشی کی شرح قابلِ تشویش نہیں۔
لیکن ماہرین اس وضاحت کو گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔ روپین یونیورسٹی کے مرکزِ تحقیقِ خودکشی کے سربراہ پروفیسر یوسی لوی بلاس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں خودکشیوں کے اعداد و شمار واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم مستقبل میں ایک بڑے خودکشی کے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر بلاس نے مزید کہا 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی فوجیوں کو احساس ہوا کہ وہ ایک بہت بڑے دشمن کے مقابل ہیں، نہ صرف خارجی بلکہ اندرونی نفسیاتی دشمن کے بھی۔ ریزرو فوجی اس جنگ کے دوران انتہائی حد تک کمزور ہو چکے ہیں، اور آج بھی اختلالِ اضطراب پس از سانحہ (PTSD) سے نبرد آزما ہیں۔ ہم موجودہ دور میں اور جنگ کے بعد بھی خودکشیوں کی ایک نئی لہر دیکھیں گے، کیونکہ ان فوجیوں کے لیے جنگ میں پیش آنے والے تجربات کو برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔
| 2017–2022 | 42–45٪ | نسبتاً مستحکم دور |
| 2023 | 17٪ | جنگِ غزہ سے قبل کمی |
| 2024 | 78٪ | غزہ جنگ کے بعد اچانک اضافہ |
نفسیاتی معاونت کی کمی
اعداد و شمار کے مطابق صرف 17 فیصد فوجی جنہوں نے خودکشی کی، جنگ سے قبل کسی ماہرِ نفسیات یا فوجی ذہنی صحت کے افسر سے ملاقات کر چکے تھے، جو فوج کے اندر نفسیاتی معاونت کے شدید فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان کیسوں پر مشتمل ہیں جو فوج کے نفسیاتی ماہرین کے پاس باضابطہ طور پر رپورٹ ہوئے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق 10 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی اس وقت ذہنی صحت کے مسائل اور اختلالِ اضطرابِ پس از سانحہ (PTSD) میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے صرف 3769 فوجیوں کو ماہرین کی جانب سے خصوصی علاج فراہم کیا جا رہا ہے، جب کہ باقی افراد عمومی یا ناکافی دیکھ بھال پر ہیں۔
صہیونی چینل کان (KAN) کی رپورٹ
اسرائیلی چینل کان نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ان اعداد و شمار کی اہمیت یہ ہے کہ ہر اُس فوجی کے مقابلے میں جو خودکشی کر چکا ہے، سات ناکام خودکشیوں کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
کنیست ارکان، ماہرینِ نفسیات اور فوجی حکام کے اعترافات
1۔ اسرائیلی کنیست کے رکن عوفر کسیف نے ہی اس رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خودکشیوں کی یہ وبا جو غالباً جنگ کے خاتمے کے بعد مزید بدتر ہو جائے گی، اس بات کی متقاضی ہے کہ فوجی مرد و خواتین کے لیے حقیقی نفسیاتی و سماجی معاونت کے نظام قائم کیے جائیں، اور سب سے بڑھ کر، ان جنگوں کا خاتمہ کیا جائے جنہوں نے یہ بحران پیدا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت جو اپنے سپاہیوں کو جنگ اور قید میں دھکیل کر پھر انہیں تنہا چھوڑ دیتی ہے، دراصل اپنے ہی فوجیوں کے خلاف جنگ کر رہی ہوتی ہے۔
2۔ وزارتِ جنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور شعبۂ منصوبہ بندی کے سربراہ ایتمار گراف نے خودکشیوں کے بڑھتے رجحان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف منصوبے اور نفسیاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو فوجیوں کے کیسز کی نگرانی کر رہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے خودکشی کے قابلِ ذکر واقعات بدستور موجود ہیں، اور ہم اس رجحان کے مسلسل بڑھنے کے گواہ ہیں، ہر ایک خودکشی دراصل ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔
3۔ اسرائیل میں برائے زندگی نامی تنظیم کے بانی اور ممتاز ماہرِ نفسیات پروفیسر ہاگای ہرمس نے کہا ہے کہ فوج میں خودکشیوں سے متعلق پیش کردہ اعداد و شمار دراصل آئیس برگ کی صرف چوٹی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل میں ہر سال 500 سے 700 افراد خودکشی کرتے ہیں، جن کی اکثریت کی خبریں میڈیا میں ظاہر ہی نہیں ہوتیں، فوج میں خودکشی کے واقعات مجھے ذاتی طور پر تکلیف دیتے ہیں کیونکہ میرا اپنا بیٹا فوجی خدمت کے دوران خودکشی کر بیٹھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے سب سے بنیادی قدم یہ ہے کہ درست اور شفاف معلومات فراہم کی جائیں تاکہ سماج اور ادارے مسئلے کی اصل گہرائی کو سمجھ سکیں۔
نتیجہ
یہ بیانات اسرائیلی فوج کے اندر گہرے اخلاقی، نفسیاتی، اور تنظیمی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ غزہ کی جنگ نے نہ صرف اسرائیل کی عسکری طاقت کی محدودیت کو ظاہر کیا، بلکہ اس کے فوجیوں کے ضمیر اور ذہنی استحکام کو بھی شدید طور پر مجروح کیا۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران ریزرو فوجیوں میں خودکشیوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، یہ وہ افراد ہیں جنہیں معمولی تربیت کے بعد طویل عرصہ کے لیے محاذ پر رکھا گیا۔ کنیست کی رپورٹ ایک عسکری ادارے کے اندرونی زوال کا آئینہ ہے۔
خودکشی کے یہ واقعات محض ذاتی کمزوری نہیں بلکہ ریاستی بحرانِ وجدان (crisis of conscience) کا اظہار ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی اصل شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اپنے فوجیوں کے ذہن و دل میں رونما ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کی خودکشیوں میں اضافہ صرف ایک نفسیاتی بحران نہیں بلکہ سیاسی و اخلاقی زوال کی علامت بھی ہے۔ غزہ جنگ نے اسرائیل کے فوجی بیانیے یعنی طاقت کے ذریعے سلامتی کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ اب نہ صرف دشمن بلکہ خود اسرائیلی سپاہی بھی اپنے ضمیر کے خلاف لڑنے کی اذیت برداشت نہیں کر پا رہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فوج میں خودکشیوں فوج میں خودکشی اسرائیلی فوج خودکشیوں میں خودکشیوں کا خودکشیوں کے خودکشیوں کی فوج کے اندر ریزرو فوجی غزہ جنگ کے خودکشی کی فوجیوں کے خودکشی کے نہیں بلکہ کے دوران رپورٹ کے کے مطابق کی شرح کے لیے کے بعد جو فوج
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو