سیکیورٹی سمیت انسداد منشیات کیلئے ایران کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی سمیت انسداد منشیات کے لیے ایران کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
محسن نقوی نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور ایرانی ہم منصب سے الگ الگ ملاقات کی۔
ملاقات میں پاک ایران تعلقات اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات اور بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
ملاقات میں باہمی تعاون کے لیے مشترکہ روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل ایران نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت خوش آئند ہے۔
پاک ایران وزرائے داخلہ نے داخلی سیکیورٹی کے امور پر باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور محسن نقوی نے ای سی او وزارتی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر ایرانی ہم منصب کو مبارک باد دی۔
محسن نقوی نے کہا کہ رکن ممالک کے لیے یہ وزارتی کانفرنس دور رس نتائج کی حامل ہوگی، داخلی سلامتی سے متعلق امور پر ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ ایرانی وزیر داخلہ نے دورے کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ جلد اپنے بھائی سے ملنے اسلام آباد آؤں گا۔
ایرانی وزیر داخلہ نے ای سی او وزارتی کانفرنس میں شرکت پر محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے وزیر داخلہ داخلہ نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔