گھوٹکی: پولیس ورینجرز کا آپریشن، 6 ڈاکو ہلاک، ایک اہلکار شہید،2زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
(فائل فوٹو)
گھوٹکی:۔ ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے رونتی میں پولیس اور رینجرز کی مشترکہ فورسز نے شر گینگ سے تعلق رکھنے والے ڈاکوﺅں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا ہے۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران شدید مقابلے میں 6 خطرناک ڈاکو ہلاک ہوگئے، جن میں گڈی شر، اکبر شر سمیت دیگر شامل ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایس پی انور کھیتران نے بتایا کہ رونتی کے کچے علاقے میں پرانی دشمنی کی وجہ سے ڈاکوﺅں کے دو گروپوں کے درمیان پہلے تصادم ہوا۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو ڈاکوﺅں نے پولیس پارٹی پر براہ راست حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار امجد شہید جبکہ دو دیگر اہلکار زخمی ہوگئے۔
ایس ایس پی انور کھیتران نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پولیس اور رینجرز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور جدید ڈرون کیمروں، بھاری ہتھیاروں اور بکتربند گاڑیوں کی مدد سے ڈاکوﺅں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 6 ڈاکو ہلاک ہوئے، ہلاک ڈاکوﺅں کی لاشیں پولیس کی تحویل میں لے لی گئی ہیں جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی نے مزید کہا کہ یہ آپریشن ڈاکوﺅں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ کچے کے علاقے میں جرائم کی حوصلہ شکنی کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے، اور ایسے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے شہید اہلکار امجد کی فیملی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈاکوﺅں کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔