پاک افغانستان مذاکرات کی ناکامی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی برقرار ہے۔ ناکام مذاکرت افغانستان پاکستان کسی کے لیے ٹھیک نہیں، اور پاکستان کے لیے تو بالکل ٹھیک نہیں، پڑوسی ملک افغانستان کے درمیان تازہ ترین کشیدگی، جس کے بعد دوحا اور استنبول میں مصالحانہ مذاکرات کی کوششیں ہوئیں، لیکن اعتماد کے بحر ان کی وجہ سے نتیجہ خیز نہیں ہوا، مذاکرات میں بظاہر مقصد ایک پائیدار جنگ بندی، نگرانی کے میکانزم اور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے واضح شرائط طے کرنا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اعتماد کی کمی، عسکری اور سیاسی موافقت کا فقدان، اور علاقائی طاقتوں کے مختلف مفادات نے گفتگو کو بارہا ناکام کیا یا کم از کم اس کی تاثیر کم کر دی ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں نے دونوں اطراف میں انسانی جانوں کا شدید نقصان دکھایا ہے، فوجی اور شہری، دونوں ہلاک ہوئے ہیں اور یہ تصادم اس بات کا ثبوت ہیں کہ محض ڈپلومیسی کی بات چیت سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، جب تک اس کے پیچھے ایک قابل ِ عمل اور قابل ِ جانچ میکانزم قائم نہ ہو۔ دوحا میں پہلی ملاقات کے بعد ایک غیر مستحکم جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جبکہ استنبول میں گفتگو کے اگلے مرحلے میں نگرانی کے طریقہ کار کے قیام پر عمومی اتفاق اور بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا؛ مگر متعدد رپورٹس اور تجزیہ کار کے مطابق یہ معاہدے عملی جامہ پہنانے میں بہت کم کامیاب رہے یا پھر معاملات جلد از جلد دوبارہ الجھ گئے۔
افغان فریق کے نقطہ ٔ نظر سے ان کے نمائندے اپنی تجاویز کو ’منطقی اور پاکستان کے لیے آسانی سے قابل ِ عمل‘ قرار دیتے ہیں؛ تاہم اسلام آباد کا مؤقف یہ ہے کہ پیش کردہ مطالبات ناقابل قبول اور جارحانہ ہیں، اس کشمکش کا مرکز عموماً وہ مطالبات ہیں جو پاکستان طرف سے ’سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے‘ کے شقوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اسلام آباد نے اپنے شواہد کی بنیاد پر جو مطالبات ثالثوں کے سامنے رکھے، ان کا کہنا تھا کہ مقصد محض سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور یہ مطالبات جائز اور منطقی ہیں۔ پاکستانی ترجمانوں نے واضح کیا کہ اگر ان مذاکرات میں عمل درآمد نہ ہوا تو اسلام آباد اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بات چیت کے عمل کی ناکامی کے معاشی، سفارتی اور انسانی قیمتیں بڑی ہوں گی۔ پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان نے پچھلے چالیس سال میں افغانستان کے اندرونی بحرانوں میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر زندگیوں، معیشت اور سلامتی کے اعتبار سے جو قربانیاں دیں، وہ معمولی نہیں تھیں، پناہ گزینوں کی اکثریت کا بوجھ، سرحدی دہشت گردی کے خلاف طویل فوجی مہمات، اور علاقائی عدم استحکام کے اثرات نے پاکستان کی استعدادِ کار پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس پس منظر کا تحفظ یہ بتاتا ہے کہ اسلام آباد کیوں سخت موقف اپناتا ہے اور کیوں اس کے مطالبات کو محض سفارتی الفاظ میں نمٹا کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ اگر ہم مذاکراتی ناکامی کی اندرونی وجوہات پر نظر ڈالیں تو چند ایسے بنیادی مسائل نظر آتے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا سیاسی خود فریبی ہوگی۔ پہلا مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے، دونوں اطراف میں سنجیدہ سطح کا اعتماد موجود نہیں جس کی بنا پر کوئی بھی فریق اپنے دفاعی یا سیکورٹی اقدامات میں نمایاں ڈھلاؤ دکھائے۔ دوسرا، عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین ہم آہنگی کا فقدان ہے؛ پاکستان میں ملکی حکمت ِ عملی جب عسکری اور سفارتی سطح پر یکساں نہیں تو مذاکراتی ٹیم کے پاس عملی لچک کم رہ جاتی ہے۔ تیسرا، خطے میں بیرونی طاقتوں اور ثالثوں کے کردار اہم رہا جہاں ترکی اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اس عمل کو بظاہر سہارا تو ملا مگر یہ سہارا طویل المدتی ہم آہنگی میں تبدیل نہ ہو سکا۔ ثالثی اس وقت تک کامیاب رہتی ہے جب فریقین اپنے اندر بنیادی توازن اور سیاسی تیاری رکھتے ہوں، ورنہ ثالثی عارضی طور پر صورتِ حال کو ٹھنڈا کر دیتی ہے مگر بنیادی تضادات برقرار رہتے ہیں۔ پاکستان کے لیے مخدوش بات یہ ہے کہ اگر مذاکرات بارہا ناکام رہیں تو یہ سلسلہ خانہ جنگی یا بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی طرف نہیں جانا چاہیے، اور نہ ہی عوامی سطح پر ایسی تجاویز قابل قبول ہوں جو نہ صرف خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلیں بلکہ خانگی وسائل اور معیشت پر ناقابل ِ تلافی اثرات ڈالیں۔ اس اعتبار سے ’تمام ضروری آپشنز‘ کے جملے، جو سرکاری سطح پر استعمال کیے جاتے ہیں، بعض اوقات داخلی مسائل اور بین الاقوامی تشویش کو جنم دیتے ہیں۔ مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں فوجی یا مخصوص کٹے ہوئے آپریشنز ممکن ہیں مگر ان کے نتیجے میں سیکورٹی کی وہ صورتِ حال جن کا تذکرہ کیا جاتا ہے، مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے خاص طور پر جب افغانستان میں مرکزی کنٹرول کمزور ہو اور علاقائی علٰیحدہ گروہ یا امن دشمن عناصر خود کو کسی فضا میں آزاد محسوس کریں۔
اس صورتِ حال میں پاکستان کو دو متوازی حکمت ِ عملیاں اپنانی ہوں گی: ایک تو مختصر المدت، عملی اور تکنیکی نوعیت کی، جس میں سرحدی نگرانی کے بہتر طریق کار، مشترکہ کارروائی کے اہداف، اور ثالثی کے ذریعے قابل ِ عمل میکانزم کو نافذ کرنا شامل ہو؛ دوسری، طویل المدت پالیسی جس میں خطے کی مستقل استحکام کے لیے سیاسی شمولیت، اقتصادی روابط کی تعمیر، اور افغانستان کے اندر موثر ریاستی کنٹرول کو فروغ دینے کی کوششیں شامل ہوں۔ درحقیقت، صرف عسکری یا سفارتی کوششیں اکیلے مسئلے کو حل نہیں کریں گی، ایک جامع نقطہ ٔ نظر درکار ہے جس میں معاشی امداد، انفرا اسٹرکچر کا اشتراک، اور باہمی اعتماد پیدا کرنے والے اقدامات شامل ہوں۔ ایک دانش مندانہ راستہ یہ ہو گا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو ’دشمن‘ سمجھنے کے بجائے باہمی مفادات کی روشنی میں تعلق بنائیں جہاں انسانی فلاح، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کو مقدم رکھا جائے۔ افغان قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں اس کے خود کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ خطے کی سلامتی دونوں فریقین کے مشترکہ مفاد میں ہے؛ اس لیے ناکام مذاکرات کسی کو بھی فائدہ نہیں دیں گے، نہ پاکستان کو، نہ افغانستان کو، اور نہ ہی خطے کے دوسرے ملکوں کو۔ اس کا کوئی فائدہ ہوگا۔ ضرورت دونوں کے لیے اس وقت یہ ہے کہ مذاکراتی ناکامی پر غم و غصہ دکھانے کے بجائے، ایک منظم، شواہد پر مبنی، اور شفاف حکمت ِ عملی مرتب کی جائے جس میں ثالثی کو ایک معاون کردار دیا جائے مگر آخری فیصلے دونوں ملک اپنے قومی مفادات اور بین الاقوامی ذمے داریوں کے پیش ِ نظر کریں۔ اگرچہ تعلقات کی بحالی پیچیدہ اور دیر طلب ہو سکتی ہے، مگر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ جبر یا عسکری تسلط کی حکمت ِ عملیاں طویل المدت استحکام فراہم نہیں کرتیں، استحکام تبھی ممکن ہے جب دونوں اطراف اپنی پالیسیوں میں عملی لچک اور سیاسی عزم دکھائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور بین الاقوامی اسلام ا باد اور سیاسی یہ ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن