جماعت اسلامی کا اجتماع عام فرسودہ نظام کی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا‘ ڈاکٹر حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے منصورہ میں پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجتماع عام کے دوران خواتین کانفرنس میں’’جہاں آباد تم سے ہے‘‘ کے عنوان سے پروگرام میں خواتین کے مسائل اور ان کے حل کے لیے جامع لائحہ عمل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانفر نس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین، غیر ملکی مندوبین اور ہائی اچیورز شرکت کریں گی جنہیں کارکردگی ایوارڈز سے نوازا جائے گااور نوجوان خواتین کے لیے ’’یوتھ ارینا‘‘ قائم کیا جائے گا، جہاں 500 سے زائد مستند گائڈز ڈیجیٹل دنیا اور جدید کاروباری مواقع سے متعلق رہنمائی فراہم کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ کے ذریعے مقامی مصنوعات کے فروغ کا خصوصی پلان پیش کیا جائے گا۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ 10 ہزار بچوں کے لیے اطفال کیمپ تیار کیا جا رہا ہے، جس میں تعلیمی، معلوماتی اور تفریحی سرگرمیاں شامل ہوں گی اور اجتماع عام میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی بچیوں میں 5ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدل دو نظام خواتین کے حقوق کے تحفظ اور نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرنے کا لائحہ عمل دے گا۔ پریس کانفر نس میں اجتماع عام کے حوالے سے قائم کمیٹیوں کی سربراہ اور میڈیا ڈائریکٹر ڈاکٹر ثمینہ سعید،ڈاکٹر زبیدہ جبیں سمیت تمام انتظامی کمیٹیوں کی ناظمات اور اسلامی جمعیت طالبات، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی قیادت نے شرکت کی۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ اجتماع عام بدل دو نظام خواتین کے حقوق کے تحفظ اور نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرنے کا لائحہ عمل دے گا۔ دنیا بھر میں تبدیلی کے حیرت انگیز واقعات رونما ہورہے ہیں۔ بدلتے حالات میں پاکستان دوست قوتیں نئے عزم سے ملک و ملت کی ترقی کاعہدکریں۔ اجتماع عام اسی عظیم مقصد کے پیش نظر منعقد کیا جارہا ہے۔نوجوان نسل کو مایوسی سے نکالنا ہمارا اصل ہدف ہے۔ جماعت اسلامی ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہوئی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ہمار اایمان ہے کہ عوام کی خدمت بہترین عبادت ہے۔ 22 نومبر کو اجتماع عام کے دوسرے دن سہ پہر 3 بجے خواتین سیشن ہوگا جس میں نظام کی تبدیلی میں خواتین کے کردار پر مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ماہر خواتین روشنی ڈالیں گی۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ کا خواتین کا سب سے بڑا اور منفرد پروگرام لاہور میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے 3 دن کے لیے لاکھوں خواتین بچوں سمیت شریک ہوںگی۔جماعت اسلامی کے غیر معمولی اور شاندر پروگرام کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں۔ حلقہ خواتین جماعت اسلامی ملک میں خواتین کی سب سے بڑی اور مؤثر تنظیم ہے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا کردار بڑ ا نمایاں ہے۔ اجتماع عام معاشی،معاشرتی،تعلیمی و سیاسی شعبوں میں بڑی تبدیلیوں کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ عورت معاشرے میں ماں بہن بیٹی اور بیوی کے مقدس رشتوں کی وجہ سے عزت و وقار کی سب سے زیادہ حقدار ہے مگر اسے اس مقام و مرتبہ سے محروم رکھا گیا ہے۔ عورت کو غیرت کے نام پر قتل تو کردیا جاتا ہے مگر اس کی تربیت کی جاتی ہے نہ اسے وراثت کا حق دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی عورت کا بچہ دودھ نہ ملنے کی وجہ سے بلک رہا ہوگا،اس کا باپ یا شوہر بیمار اسپتال میں پڑا ہوگا یا اس کے بھائی کو قتل کردیا جائے گا تو وہ چین اور سکون سے نہیں بیٹھ سکتی۔اس لیے معاشی،معاشرتی اور تعلیمی حوالے سے ملکی ترقی میں خواتین کو اپنا بھرپور کردا رادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر کی خواتین کو اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر حمیرا طارق نے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی میں خواتین خواتین کے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :