اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا( 12 افراد شہید، 30زخمی)
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
مبینہ بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا، سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکے، موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اُڑا دیا،وکلا بھی زخمی ،عمارت خالی کرا لی گئی
دھماکے سے قبل افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کمنگ سون اسلام آبادکی ٹوئٹس،دھماکا سہ پہر 12 بج کر 45 منٹ پر ہوا جبکہ افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صبح سویرے ٹوئٹس ہونے لگے،ذرائع
اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی حمایت یافتہ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنۃ الخوارج کے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔اسلام آباد میں ہوئے خودکش دھماکے میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کھل کر سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد دھماکا لگ بھگ سہ پہر 12 بج کر 45 منٹ پر ہوا جبکہ افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صبح سویرے سے بازگشت سنائی دی جانے لگی، 6 بج کر 45 منٹ پر افغان طالبان سے منسلک ایکس اکاؤنٹ پرComing”Soon”Islamabad جیسی ٹویٹس دیکھی گئیں۔وفاقی دارالحکومت میں جی الیون کچہری کے مرکزی گیٹ کے قریب خودکش دھماکہ میں زخمیوں میں سے 7 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جس میں چارپولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اورقانون نافذ کرنیوالے اداروں نے پورے علاقہ کو کارڈن آف کرکے زخمیوں کوپمز منتقل کیا۔آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اورچیف کمشنر محمدعلی رندھاواسمیت دیگر اعلی پولیس افسران بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے جبکہ وزیرِداخلہ محسن نقوی نے بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کہا کہ افغانستان کے شرپسند عناصر کونہ روکنے پر کوئی چارہ نہیں کہ ہم انکا بندوبست کریں۔منگل تقریبا پونے ایک بجے کے قریب جی الیون کچہری کے مرکزی گیٹ کے قریب خودکش بمبار نے اسلام آباد پولیس کے پیٹرولنگ اسکوارڈ کی گاڑی کو ٹارگٹ کیا۔اس وقت وکلاء اور اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے آئے لوگوں کی آمدروفت جاری تھی جبکہ اسلام آباد پولیس کی دو گاڑیاں سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود تھیں جن میں سے ایک گاڑی کوخودکش بمبار نے ٹارگٹ کیا جس میں وقوعہ کے وقت چار پولیس اہلکار سوار بتائے جاتے ہیں جبکہ متعدد راہ گیر ، وکلاء اوراپنے مقدمات کی پیروی کے لئے آئے لوگ زد میں آئے۔ذرائع کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں کی شناخت کاعمل جاری ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ماہرین نے جائے وقوعہ سے انسانی اعضاء سمیت دیگر شواہد اکٹھے کرلئے ہیں اور مذید تحقیقات جاری ہیں۔ترجمان پمز ڈاکٹرمبشر ڈاہا نے کہا ہے کہ کچہری دھماکے کے 36 زخمیوں کو پمز اسپتال لایا گیا، 18 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا، دھماکے میں بارہ افراد شہید ہوئے، 14 زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے انہیں وارڈز میں شفٹ کردیا گیا ہے۔انہوں ںے بتایا کہ 4 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے، دھماکے میں شہید دس شہداء کی شناخت ہوچکی ہے، دھماکے میں دوشہداء کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسلام ا باد دھماکے میں کچہری کے کے قریب
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔