Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:18:25 GMT

کچہری کے باہر، اسلام آباد: خودکش دھماکہ، 12 شہید

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

کچہری کے باہر، اسلام آباد: خودکش دھماکہ، 12 شہید

 اسلام آباد؍ لاہور؍ پشاور (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ خبر نگار خصوصی+ سٹاف رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ خصوصی نامہ نگار+ بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں کچہری کے  سامنے پولیس کی گاڑی  کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوگئے۔ بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سر کاری ٹی وی کے مطابق اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی سپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج نے خودکش دھماکہ کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ سخت سکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکا۔ موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اڑا دیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔ پمز ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ 12 افراد کی لاشیں اور 20 سے 22 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق خودکش دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ بھی آئے۔ پارکنگ ایریا میں دھماکے سے آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔ قبل ازیں دھماکے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے میں وکلاء بھی زخمی ہوئے ہیں۔ کچہری کے باہر دھماکے کے بعد عمارت خالی کرا لی گئی۔ وکلاء، ججز اور سائلین کو کچہری سے نکال دیا گیا۔ جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے کی طرف سے شہریوں اور وکلاء کو نکالا گیا، ججز کو بھی روانہ کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکہ کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں ہوا ہے۔  دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی،  لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد جی الیون کے علاقے میں خودکش بمبار کے حملے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کے لیے ہدایات جاری کیں۔ وزیر داخلہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ خود کش حملے میں اب تک 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ  خودکش حملہ آوروں کے افغانستان میں کمیونیکیشن کی معلومات تھیں۔ ہمیں اپنے ملک کو دیکھنا ہے، سب سے پہلے پاکستان ہے۔  وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد دھماکے میں ملوث کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ جو کوئی دوسرے ملک سے بھی ملوث ہوا تو معاف نہیں کیا جائے گا۔ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان کو شواہد دیئے ہیں کہ کیسے لوگ وہاں ٹریننگ کر رہے ہیں اور اس کے بعد حملے ہوتے ہیں۔ افغانستان کے دہشتگرد عناصر کو نہ روکنے پر کوئی چارہ نہیں کہ ان کا بندوبست کریں۔ سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ گزشتہ روز 12بجکر 39 منٹ پر خود کش حملہ ہوا۔ وزیراعظم نے زخمیوں کے فوری علاج  کی ہدایت کی۔ خودکش حملہ آور کہری کے اندر جانے کا پلان کر رہا تھا۔ موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا۔ پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے۔  اسلام آباد کچہری خودکش حملے کی تحقیقاتی اداروں نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی جس کے مطابق خودکش حملہ آور باجوڑ میں رہائش پذیر تھا۔ خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا۔ حملہ آور پیر ودھائی سے موٹرسائیکل پر جی الیون کچہری آیا۔ خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھی ہوئی تھی۔  آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 8 کلو گرام تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کئے گئے۔ ابھی تک جو شواہد اکٹھے کئے گئے اس کے مطابق حملہ آور ایک ہی تھا۔ آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ایک موٹرسائیکل اور گاڑی کو مشکوک تصور کیا جا رہا ہے۔  کیمروں کی بیک ٹریکنگ سے شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ فرانزک، سی ٹی ڈی، انویسٹی گیشن، سیف سٹی اور حساس ادارے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ادھر کیڈٹ کالج وانا میں موجود تمام طلباء اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق  تمام طلبہ اور اساتذہ کے حوصلے بلند ہیں۔ حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت 650 افراد موجود تھے جنہیں ریسکیو کر لیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وانا میں بھی گاڑی سوار خود حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا۔ وہاں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے۔ وانا اٹیک میں افغانستان ملوث ہے،  افغانستان سے کمیونیکیشن ہوتی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان گئے ہیں اور ان کو شواہد دیئے ہیں کہ کیسے لوگ وہاں ٹریننگ کر رہے ہیں اور اس کے بعد حملے ہوتے ہیں۔ افغانستان کے  دہشت گرد عناصر کو نہ روکنے پر کوئی چارہ نہیں  کہ ان کا بندوست کریں۔ امریکہ نے اسلام آباد دھماکے پر پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ امریکہ دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ حملے میں  جانیں گنوانے والوں کے اہلخانہ سے دلی اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ پاکستانی حکومت کی امن و استحکام کیلئے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ دریں اثناء جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں خودکش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دھماکے کا سن کر بے حد افسوس ہوا۔ ڈھاکہ سے میڈیا سیل میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں امن وامان قائم کرنا ریاستی اداروں اور حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند فرمائے۔  جے یو آئی متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ جمعیت علماء  اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات ایک مرتبہ پھر خراب کئیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان دشمن قوتوں کی کارروائی ہے۔ خیبر پی کے پولیس نے بنوں کے تھانہ احمد زئی پر رات کی تاریکی میں شرپسند عناصر کے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے حملہ کو ناکام بنا دیا۔ بنوں پولیس کی دلیرانہ اور بروقت جوابی کارروائی سے دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ متعدد دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جنہیں دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پی کے  ذوالفقار حمید نے بنوں پولیس کی اس بہادرانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پی کے  پولیس عوام کے تحفظ کے لیے ہر وقت چوکس اور تیار ہے۔ انہوں نے حملہ ناکام بنانے والے پولیس ٹیم کی جرات مندانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔ دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کر لئے گئے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں میں ہوا۔ دھماکے کی آواز پولیس لائنز ہیڈکوارٹر تک سنی گئی۔ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور پیدل کچہری کے باہر پہنچا۔ حملہ آور کچھ دیر تک گیٹ کے قریب بیٹھا رہا۔ اندر جانے والوں کی چیکنگ جاری تھی۔ بظاہر لگتا تھا کہ حملہ آور کچہری کے اندر جانا چاہتا تھا۔ حملہ آور سکیورٹی چیکنگ کے باعث رک گیا، جس کے بعد اس نے سڑک پر دھماکے سے خود کو اڑا لیا۔ دھماکے کے وقت 35  سے 40 افراد موقع پر موجود تھے۔ ہر طرف افرتفری پھیل گئی۔ دھواں کے باعث کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی۔ لوگوں نے دوڑیں لگا دیں کہ مزید کوئی دھماکہ نہ ہو جائے۔ پولیس نے وین کھڑی کر کے ٹریفک کو روک دیا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی جائے وقوعہ پر پہنچے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کچہری کے باہر دھماکے کے مقام کا دورہ کیا۔ وزیرداخلہ نے جائے دھماکے کا معائنہ کیا اور سرچ آپریشن جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ بھارتی سپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی۔ وزیر داخلہ نے پولیس سے جامع تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے جو وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔ محسن نقوی نے دھماکے میں  جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار  کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق  ایک وقت میں  دو دھماکوں کی آواز سنائی دی۔ موٹر سائیکل اور کار میں بیک وقت دھماکے سے آگ بھڑکی۔ شہید ہونے والوں میں افتخار علی ولد سلطان محمود، سید سجاد ولد لعل دین شاہ، طارق خان  ولد  مہر افضل، افتخار خان ولد سرتاج خان، سبحان  الدین، ثقلین  ولد مہدی حسن، صفدر علی  ولد منظور احمد، شاہ محمد ولد محمد خلیل، زبیر گھمن ایڈووکیٹ، محمد عبداللہ ولد فتح خان شامل ہیں۔ عدم شناخت زخمیوں کے نام: مظہر ولد روزی خان‘ وکیل‘ ارشاد اے ایس آئی تھانہ رمنا‘ منتظر ولد فرحت عباس‘ اظہر ولد ظفر اقبال‘ عادل کیانی ولد طارق‘ عالم زر ولد شیر زادہ ‘یاسین ولد عبدالکریم‘ محمد عمران ہیڈ کانسٹیل‘ احتشام ولد نزاکت‘ شمائلہ دختر انور حسین‘ نوید انجم ولد لیاقت‘ قیصر محمود ولد چوھدری محمد‘ مالک مسیح ولد ظہور‘ عمران جاوید کانسٹیبل تھانہ کوہسار‘ محمد رمضان ولد محمد اعظم بلوچستان پولیس‘ میر اعظم ولد غمین خان‘ حیدر خان وکیل‘ عمران ولد فرحان مسیح‘ کاظم ولد نوبہار‘ دونا پولیس ملازمین ارشاد اے ایس آئی تھانہ رمنا عمران جاوید کانسٹیبل تھانہ محمد عمران ہیڈ کانسٹیل بتائے گئے ہیں۔ چینی سفارتخانہ پاکستان کے ترجان نے کہا زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔ اس حملے کی شدید مذمت  کرتے ہیں۔ ادھر آسٹریلیا نے بھی مذمت کی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا۔ دہشت گردانہ کارروائیاں  سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی۔ اسلام آباد کچہری دھماکے پر صحافیوں سے گفتگو  کرتے کہا اندازہ تھا ہم پر پریشر ڈالنے کیلئے اس قسم کی کوئی حرکت کی جائے گی۔ اب تک دہشتگردی سرحدی علاقوں تک محدود تھی۔ اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے۔ افغان حکومت افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملے سے ہمیں پیغام دیا گیا آپ کے تمام علاقے ہماری زد میں ہیں۔ ہماری عوام اور افواج دہشت گردی کیخلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا۔ صدر آصف زرداری نے اسلام آباد حملے کی مذمت کرتے کہا دہشتگرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کے دشمن ہیں۔ بلاول بھٹو نے بھی وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے قریب حملے کی مذمت کی ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینیٹر  ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے اسلام آباد کی کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے ملک کے امن و استحکام کو نشانہ بنانے کی گھناؤنی سازش ہیں۔ امیرِ مرکزی جمعیت اہلحدیث نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس اور کیڈٹ کالج میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا  کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ انہوں نے شہید ہونے والوں کے ایصال ثواب اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔  معصوم قبائلی بچوں پر حملہ اور دہشتگردوں کا اسلام سے یا پاکستان کی عوام کی خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں۔تینوں خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا۔ یہ لوگ مسلسل ٹیلیفون پے افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔ واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آئی جی فرنٹیئر کور خیبر پی کے کے ساتھ آپریشن کی نگرانی کی۔ خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد پاکستان افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔ حالیہ واقعات میں افغان مداخلت کے ثبوت ثالثوں کے سامنے رکھے جائیں گے۔ ہم جارحیت کا وار خالی نہیں جانے دیں گے بھرپور جواب دیں گے۔ وانا میں آرمی پبلک سکول کی طرح بچوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ افغانستان کی جانب سے حملوں کی مذمت یا افسوس، سچائی کا ثبوت نہیں ہو سکتی۔ افغان طالبان کی پناہ میں رہنے والے لوگ بار بارہم پرحملہ کر رہے ہیں۔ وانا کیڈٹ کالج میں اللہ کی مہربانی سے پاک فوج نے کیڈٹس کو بچایا ہے۔ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں جارحیت کر رہا ہے۔ افغان طالبان سے متعلق خود کو بیوقوف نہ بنائیں کہ وہ امن چاہتے ہیں۔ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے، ہمارے ہمسائے افغانستان کا دشمنی پر مبنی رویہ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپس اور پناہ گاہیں پاکستان میں نہیں ہیں۔ دہشتگردی کے زیادہ تر واقعات میں اکثریت افغان دہشتگردوں کی ہے۔ ترکیہ، قطر اور ایران مزید کوشش کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں۔ کابل والوں پر زبانی کلامی تو افغانستان کے اندر کوئی اعتبار نہیں کرتا ہم کیسے کریں۔ مودی حکوت دہلی دھماکے کو اپنے فائدے میں کیش کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ مجھے حیرانی نہیں ہوگی اگر بھارت دہلی دھماکے کا الزام بھی ہم پر تھوپ دے۔ ثالثوں کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں کہ اس کے پیچھے بھارت ہے۔ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے سے دہشتگردوں کو پیسے ملتے ہیں۔ افغانستان سے متعلق دستیاب تمام سفارتی آپشنز استعمال کریں گے۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش حملے اور وانا کیڈٹ کالج پر دہشتگرد حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مرکزی شعبہ اطلاعات نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے شہداء کے درجات بلند فرمائے۔دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سی ٹی ڈی نے بنوں میں کارروائی کی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی میں فتنہ الخوارج کے انتہائی مطلوب دو ٹارگٹ کلرز ہلاک ہو گئے۔ دہشتگردوں سے کلاشنکوف، پستول، ہینڈ گرینیڈ، موبائل فونز، کالعدم تنظیم کا کارڈ برآمد ہوا۔ دہشتگردوں کے دو ساتھی فرار ہوگئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام خوارج ہلاک کر دیئے۔  چار خوارج کو کامیاب آپریشن کرکے ہلاک کیا گیا، کامیاب آپریشن کے دوران کیڈٹ کالج سے کسی طالب علم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ پاک فوج نے وانا کیڈٹ کالج آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا۔ پاک فوج نے بڑی مہارت سے 500 سے زائد طلباء کی زندگیاں بچائیں۔ یہ بہت  بڑی کامیابی ہے۔ پاک فوج نے کامیابی کے ساتھ دہشتگردوں کو نشانہ بنایا۔ یہ اے پی ایس سے بھی دس گنا بڑا واقعہ ہو سکتا تھا۔ دہشتگردوں کا صفایا کرکے دم لیں گے۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ رہا ہے  پاکستان چاہتا ہے افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہو۔ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے ان کے عزائم ناکام بنا رہی ہیں۔ پاک فوج کو خراج تحسین، ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی سہولت کاری بند ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار