جعلی وی پی این ایپس سے ہوشیار رہیں، گوگل کا صارفین کو سخت انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: گوگل نے انٹرنیٹ صارفین کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں سیکورٹی ٹولز اور وی پی این کے نام پر سامنے آنے والی متعدد ایپس دراصل خطرناک سائبر دھوکے بازی کا حصہ ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنی کے مطابق کئی ایپس ایسی ہیں جو خود کو محفوظ وی پی این یا سیکورٹی ایپ کے طور پر ظاہر کرتی ہیں، مگر دراصل وہ صارفین کے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ گوگل کی جانب سے جاری تازہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ان جعلی ایپس میں ریموٹ ایکسس ٹروجنز اور بینکنگ ٹروجنز جیسے خطرناک وائرس شامل ہوتے ہیں جو صارف کے موبائل فون یا کمپیوٹر کو مکمل طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔
گوگل نے وضاحت کی ہے کہ ان ایپس کا خطرہ صرف غیر معروف یا غیر مستند ایپ اسٹورز تک محدود نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ جعلی ایپس سرکاری پلیٹ فارمز پر بھی موجود ہوسکتی ہیں۔ اس لیے صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی وی پی این یا سیکورٹی ایپ کو انسٹال کرنے سے پہلے اس کی تفصیلات، ریویوز اور ڈویلپر کے پس منظر کو لازمی جانچیں۔
کمپنی نے بتایا کہ کچھ ایپس بظاہر وی پی این کے تمام عمومی فرائض انجام دیتی ہیں لیکن درپردہ صارف کی براؤزنگ ہسٹری، بینکنگ تفصیلات، ذاتی پیغامات، تصاویر اور حتیٰ کہ کریپٹو کرنسی والٹس تک رسائی حاصل کرلیتی ہیں۔
سائبر سیکورٹی ماہرین کے مطابق ایسے جعلی وی پی اینز کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ صارف سے غیر ضروری اجازتیں طلب کرتے ہیں، مثلاً مائیکروفون، کیمرا یا کانٹیکٹس تک رسائی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی اجازتیں دینے کا مطلب خود اپنے ڈیٹا کو غیر محفوظ ہاتھوں میں دینا ہے۔
گوگل نے اس خطرے کے تدارک کے لیے ایک نیا اقدام بھی متعارف کرایا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اب “VPN Verified” کے نام سے ایک خصوصی بیج شامل کیا جائے گا، جو صرف ان ایپس کو دیا جائے گا جو گوگل کے حفاظتی معیارات پر مکمل طور پر پورا اترتی ہیں۔ یہ بیج صارفین کو اس بات کا یقین دلائے گا کہ وہ ایک محفوظ اور تصدیق شدہ وی پی این سروس استعمال کر رہے ہیں۔
گوگل نے واضح ہدایت دی ہے کہ وی پی این یا سیکورٹی ٹولز صرف معتبر اور سرکاری ذرائع سے ہی ڈاؤن لوڈ کیے جائیں۔ کسی بھی غیر رسمی یا مشکوک ویب سائٹ سے ایپ انسٹال کرنا اپنے ڈیٹا اور مالی معلومات کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ سیکورٹی کے بنیادی اصولوں پر عمل کریں، جیسے اپ ڈیٹڈ اینٹی وائرس کا استعمال، دوہری توثیق (Two-Factor Authentication) کو فعال رکھنا اور مشکوک ایپلیکیشنز سے ہر ممکن حد تک گریز کرنا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔