عثمان طارق کی زمبابوے کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پاکستان کے نوجوان فاسٹ باؤلر عثمان طارق نے زمبابوے کے خلاف سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہیٹ ٹرک حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں:صائم ایوب نے ٹی 20 کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کردی
عثمان نے 3 مسلسل گیندوں پر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور میچ میں اپنی ٹیم کو اہم برتری دلائی۔
عثمان طارق کی وکٹوں میں ٹونی منیونگا، تشنگا میسکیوا اور ولنگٹن مساکاڈزا شامل ہیں، جنہیں انہوں نے اپنی بہترین باؤلنگ کے ذریعے میدان بدر کیا۔
اس شاندار کارنامے کے بعد عثمان طارق ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ہیٹ ٹرک کرنے والے چوتھے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔ اس سے قبل فہیم اشرف، محمد حسنین اور محمد نواز نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
عثمان طارق کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی قابلیت کا ثبوت ہے بلکہ پاکستان کرکٹ کے لیے بھی ایک یادگار لمحہ ہے۔
یہ کارکردگی سہ فریقی سیریز میں پاکستان کی فتح کے امکانات کو مزید بڑھا دیتی ہے اور شائقین کرکٹ میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹی ٹوئنٹی سہ ملکی سیریز عثما ن طارق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی سہ ملکی سیریز
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔