روہت شرما ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے ایمبسیڈر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
دبئی:(ویب ڈیسک)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے دفاعی چمپیئن بھارت کے سابق کپتان روہت شرما کو ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا ایمبسیڈر مقرر کردیا۔
روہت شرما کی قیادت میں بھارت نے 2024 کا ٹی20 ورلڈ کپ جیت لیا تھا تاہم انہوں نے بھارت کو چمپیئن بنانے کے بعد ٹی20 سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔
سابق بھارتی کپتان نے اپنے ٹی20 کیریئر میں 32.
روہت شرما دنیا کے ان چند کرکٹرز میں سے ایک ہیں جو ٹی20 ورلڈ کپ کے دومرتبہ چمپیئن بننے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں، وہ پہلے ٹی20 ورلڈ کپ 2007 کی بھارتی چمپیئن ٹیم کا بھی حصہ تھے اور ورلڈ کپ 2024 میں وہ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔
بھارت کے سابق کپتان نے 2007 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں انٹرنیشنل کیریئر میں ڈیبو کیا تھا اور پہلے ٹورنامنٹ میں آؤٹ ہوئے بغیر 88 رنز بنائے تھے، سپرایٹ مرحلے میں جنوبی افریقہ کے خلاف آؤٹ ہوئے بغیر 50 اور فائنل میں پاکستان کے خلاف 30 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔
روہت شرما نے بطور کپتان ٹی20 ورلڈ کپ 2024 میں 156.70 کی اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ 257 رنز بنائے تھے۔
آئی سی سی کی جانب سے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا ایمبسیڈر مقرر کیے جانے پر روہت شرما نے کہا کہ ورلڈ کپ ایک مرتبہ پھر بھارت میں ہو رہا ہے اور میں ایونٹ سے منسلک ہوں جو ایک بہترین موقع ہے، اس مرتبہ ایک الگ حیثیت یعنی برانڈ ایمبسیڈر کے طور پر ورلڈ کپ کا حصہ ہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں تمام کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہا ہوں اور امید ہے کہ ان کے لیے یادگار وقت ہوگا اور بھارت کی میزبانی سے محظوظ ہوں گے اور اچھی یادیں لے کر جائیں گے۔
خیال رہے کہ آئی سی سی نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا شیڈول جاری کردیا ہے، جس کے مطابق بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں ایونٹ کا آغاز 7 فروری کو ہوگا اور 8 مارچ 2026 کو ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا جائے گا۔
پاکستان اور بھارت کو ایک گروپ میں رکھا گیا اور دونوں ٹیمیں 15 فروری کو کولمبو میں مدمقابل ہوں گی، پاکستان کی سیمی فائنل اور فائنل تک رسائی کی صورت میں دونوں میچز کولمبو میں کھیلے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹی20 ورلڈ کپ 2026 روہت شرما
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔