سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ، کرکٹ امور پر اہم جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ: مقصود احمد خان )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹیریٹ کا اہم اجلاس پیر کو نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کرکٹ سے متعلق مختلف امور، اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن اور گزشتہ برسوں کے دوران انجام پانے والے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کے ارکان نے اجلاس سے قبل اسٹیڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے اسٹیڈیم میں ہونے والی نئی تعمیرات، بہتر سہولیات اور اپ گریڈیشن سے متعلق ایک مفصل پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی۔ دورانِ اجلاس، گزشتہ تین سال کے دوران اسٹیڈیم میں مکمل کیے گئے ترقیاتی کام اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، اور کرکٹ سے متعلق دیگر اہم امور پر گفتگو بھی ایجنڈے کا حصہ رہی۔
دورے کے دوران کمیٹی اراکین نے نیشنل اسٹیڈیم میں جاری اوور 40 عالمی کپ میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کھیلا جانے والا میچ بھی دیکھا اور منتظمین سے ملاقات کی۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم میں جاری تعمیرات اور سہولیات کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ہمارا دل ہے اور شہر قائد کی اہمیت ہمیشہ مسلم رہی ہے۔
بھارت کے کرکٹ رویّے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جنگ کے بعد بھارت کے زخم تازہ ہیں، اسی وجہ سے اس کا رویہ کرکٹ میں سب کے سامنے ہے، مگر میرے خیال میں مسائل کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا دنیا بھر میں مثبت تاثر جانا نہایت ضروری ہے، کیونکہ دشمن قوتیں مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سری لنکن ٹیم پر دہشت گردی کی کوشش بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، مگر سری لنکا کی حکومت اور ٹیم نے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔
چیئرمین نے کراچی میں اوور 40 ورلڈ کپ کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومتِ سندھ کے تعاون کو قابلِ تعریف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی کمیٹی اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کرکٹ کی بہتری کے لیے سفارشات پیش کرتی رہے گی۔
کمیٹی کے رکن سینیٹر عامر ولی الدین جشتی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن تسلّی بخش ہے اور یہاں بین الاقوامی معیار کی سہولتیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیڈیم کی مرکزی پرانی عمارت تاریخی اہمیت رکھتی ہے، جسے گرانے کے بجائے محفوظ رکھا گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی سی بی ہر صوبے میں برابری کی بنیاد پر بین الاقوامی میچز کا انعقاد یقینی بنائے، اور کراچی کے ساتھ ساتھ حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں کو بھی انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کے مالی اور انتظامی معاملات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
ویب ڈیسک
وہاج فاروقی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم اسٹیڈیم میں اپ گریڈیشن اسٹیڈیم کی
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔