Jasarat News:
2026-07-24@00:54:00 GMT

اجتماع عام: عظیم الشان کامیابیوں کے ریکارڈ

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام غیر معمولی کامیابیوں کے ساتھ مکمل ہوا، اس اجتماع کو کل پاکستان نہیں بلکہ عالمی اجتماع کہنا چاہیے کیونکہ صرف اجتماع عام میں شرکت کے لیے امریکا، برطانیہ، فرانس، اسپین، آئر لینڈ سمیت دنیا بھر سے تحریک اسلامی سے وابستہ افراد پاکستان پہنچے تھے، ملک کا تو شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں کی نمائندگی اجتماع میں نہ ہو، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد جیسے شہروں کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ خیبر پختون خوا، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت، بلتستان کے انتہائی دور دراز مقامات سے بھی لوگ اجتماع میں شریک تھے، اجتماع ایسا گلدستہ نظر آتا تھا جس میں ہر رنگ اور خوشبو کے پھول شامل تھے، ایسے اجتماعات میں یقینا مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے لیکن یہاں خواتین کی حاضری نے بھی ریکارڈ توڑ دیا، پہلی مرتبہ عورتوں کا سیشن بھی رکھا گیا اور اسٹیج ان کے حوالے کر دیا گیا جس میں غیر ملکی نمائندہ خواتین نے بھی حصہ لیا، خواتین رہنماؤں نے انتہائی اعتماد، جوش اور ولولے کے ساتھ سیشن کی کارروائی چلائی اور ثابت کر دیا کہ وہ صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ہیں، اجتماع سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جماعت اسلامی کی دعوت اب اعلیٰ تعلیم یافتہ، تعلیم یافتہ، تاجر، صنعت کار، اور متوسط طبقے سے آگے بڑھ کر کم تعلیم یافتہ، ہنرمند، ان پڑھ مزدوروں، سبزی فروشوں، ڈرائیوروں، چھابڑی والوں، ٹھیلے والوں تک پھیل چکی ہے کیونکہ ان طبقات کی بڑی تعداد اجتماع میں شریک تھی اور جوش و جذبے سے معمور تھی، پھر اجتماع میں روایتی ہی نہیں ماڈرن نوجوان بھی شامل تھے جوہر کارروائی میں بہت دلچسپی کا اظہار کر رہے تھے۔

اجتماع عام میں کچھ نئے تجربات کیے گئے جو یقینا باہمی مشوروں کے بعد ہی کیے گئے ہوں گے۔ جماعت اسلامی میں ان نئے اقدامات کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گی بلکہ اس کا آغاز ہوچکا ہے، ایک لحاظ سے اسے نئی بحث نہیں کہنا چاہیے کیونکہ جب سے جماعت اسلامی قائم ہوئی ہے اس میں معیار و مقدار پر ہمیشہ غور و فکر اور مشورے ہوتے رہے ہیں معیار برقرار رکھنے کے حامیوں کے پاس اپنے دلائل ہیں اور تعداد بڑھانے کے حامیوں کے پاس اپنے، میرے خیال میں دونوں طرف کے حامیوں کو اسلام کے دور اوّل کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جب دائرہ اسلام میں لوگ جوق در جوق داخل ہونے لگے تو معیار برقرار رکھنے کے اقدامات تو کیے گئے لیکن کسی بھی خوف سے دعوت کو محدود نہیں کیا گیا، اب بھی ایسا ہی کیا جانا چاہیے اپنا معیار برقرار رکھنے کی ہر ممکن جستجو کرنی چاہیے، اس کے لیے نئے طریقے سوچنے چاہئیں لیکن دعوت کو ہرگز محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ان شاء اللہ اس بحث کا نتیجہ بھی ہمیشہ کی طرح خیر کی صورت میں ہی ظاہر ہوگا اور سید مودودیؒ کا یہ قافلہ مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھے گا۔ اس اجتماع عام کی عظیم الشان کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ مینار پاکستان اور اس کے آس پاس کے تمام مقامات پر بہت بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے اور اس مقصد کے لیے لاہور شہر کے علاوہ دیگر قریبی شہروں سے بھی شامیانے وغیرہ منگوانے پڑے تھے اس کے باوجود جب کارکنوں کے قافلے وہاں پہنچے تو تمام انتظامات ناکافی پڑ گئے مزید شہروں سے اشیاء منگوائی گئیں حتیٰ کہ پنجاب کے بہت سے بھائی بہنوں نے اپنی اقامت گاہیں دیگر صوبوں سے آنے والوں کے لیے خالی کر دیں اور وہ لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھروں پر راتیں گزارتے رہے۔

جماعت اسلامی نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی انتہائی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اسٹیج پر ان ممتاز شخصیات کو بھی مدعو کیا تھا جن کا جماعت اسلامی سے تعلق نہیں ہے اسی طرح مشاعرے میں بھی کسی امتیاز کے بغیر شعرائے کرام کو مدعو کیا گیا، تین روز کے دوران تقاریر میں تمام شعبہ ہائے زندگی کا احاطہ کیا گیا قرآن و حدیث کی تعلیم ہو یا عملی تربیت کا میدان، سیاست کی گتھیاں ہوں یا عدالت کی ناانصافیاں، معیشت کی پیچیدگیاں ہوں یا صحت کے مسائل، عصری تعلیم کی مشکلات ہوں یا مدارس دینیہ کے حالات، بلدیاتی نظام کے ساتھ سیاست دانوں کا سوتیلا پن ہو یا قومی و صوبائی خزانوں کی غیر منصفانہ تقسیم، کسانوں کا استحصال ہو یا صنعتی کارکنوں پر ظلم و جبر، تمام شعبوں کی درست منظر کشی کی گئی اور مسائل کے قابل عمل حل تجویز کیے گئے، ہمیں یہ خوش گمانی تو نہیں ہے کہ موجودہ قومی اور صوبائی حکومتیں یا اصل حکمران ان قیمتی مشوروں اور تجاویز سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن یہ امید ضرور ہے کہ پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے افراد ان کا مطالعہ کریں گے، انہیں سراہیں گے، ان کی حمایت کریں گے اور جب جماعت اسلامی کے پاس اختیار و اقتدار آئے گا تو وہ ضرور ان پر عمل درآمد کی کوشش کرے گی۔ اس طرح ایک خوشحال اور عادلانہ معاشرے کا ہمارا خواب پورا ہو سکے گا۔

امیر جماعت اسلامی محترم حافظ نعیم الرحمن نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جو لائحہ عمل پیش کیا ہے اس کا ایک ہی مقصد نظر آتا ہے، موجودہ فرسودہ، ظالمانہ، استحصال پر مبنی سسٹم کو جدید عادلانہ اور احسان و ایثار سے مزین نظام سے بدل دینا۔ بظاہر یہ ایک ایسا خواب لگتا ہے جس کی تعبیر ممکن نہ ہو لیکن غور کیجیے جب مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تھی اور جو اہداف مقرر کیے تھے وہ بھی دیوانے کا خواب لگتے تھے، لوگ جماعت اسلامی کا، اس کے نعروں کا، اس کی اصطلاحات تک کا مذاق اڑاتے تھے پھر ایک وقت ایسا ایا کہ یہ نعرے نوجوانوں کے سب سے مقبول نعرے ہو گئے اور ملک کے طول و عرض میں گونجنے لگے، تعلیمی اداروں جامعات میں کالجوں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے فعال یونٹ قائم ہوئے اور اتنے مضبوط ہوئے کہ انہوں نے طلبہ کی قیادت کی، یونین انتخابات میں جمعیت مسلسل کامیاب ہوتی رہی تاآنکہ ایک کوتاہ اندیش آمر جنرل ضیاء الحق نے طلبہ یونینوں پر پابندی لگا دی اور ملک کی قیادت کی نرسری کو تباہ کر دیا ایسی نرسری جہاں ہر شعبہ زندگی کے رہنما تیار ہوتے تھے۔

اسی طرح جب جماعت اسلامی نے مزدور یونینوں کی طرف رخ کیا تو ووٹ کی طاقت سے ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل ملز اور دیگر اداروں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیے، مزدوروں کے لیے شاندار مراعات حاصل کیں، پھر ایک سیٹھ نواز شریف کو اقتدار دے دیا گیا جس نے مختلف حربوں سے لیبر یونین کو ختم کر کے رکھ دیا آج ہر سطح پر مزدور ظلم و ستم کا شکار ہیں، ان سے 12، 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ بھی نہیں دی جاتی نہ ہی انہیں ملازمت کا تحفظ حاصل ہے۔ خدمت خلق وہ میدان ہے جس میں جماعت اسلامی کی دیانت، مہارت اور اعلیٰ ترین کارکردگی کا دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں، ’’الخدمت‘‘ ہر سال غریبوں کے لیے جاری منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ اس کے عطیہ دہندگان میں اپنے ہی نہیں مخالفین بھی شامل ہیں اور یہ کسی بھی خیراتی ادارے کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اسی طرح صحافت میں بھی تحریک اسلامی کامیاب رہی، اعلیٰ معیارات قائم کیے، ووٹ کی طاقت سے متعدد صحافتی اداروں میں کامیابی حاصل کی، حافظ نعیم الرحمن نے جو اہداف مقرر کیے ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ وہ بھی ایک دن ضرور حاصل ہوں گے، پارلیمانی شعبے میں بھی جماعت اسلامی کامیابی حاصل کرے گی اور ملک کے طول و عرض میں اسلام کا پھریرا لہرائے گا۔

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے ساتھ کیے گئے کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی