اجتماع عام: عظیم الشان کامیابیوں کے ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام غیر معمولی کامیابیوں کے ساتھ مکمل ہوا، اس اجتماع کو کل پاکستان نہیں بلکہ عالمی اجتماع کہنا چاہیے کیونکہ صرف اجتماع عام میں شرکت کے لیے امریکا، برطانیہ، فرانس، اسپین، آئر لینڈ سمیت دنیا بھر سے تحریک اسلامی سے وابستہ افراد پاکستان پہنچے تھے، ملک کا تو شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں کی نمائندگی اجتماع میں نہ ہو، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد جیسے شہروں کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ خیبر پختون خوا، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت، بلتستان کے انتہائی دور دراز مقامات سے بھی لوگ اجتماع میں شریک تھے، اجتماع ایسا گلدستہ نظر آتا تھا جس میں ہر رنگ اور خوشبو کے پھول شامل تھے، ایسے اجتماعات میں یقینا مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے لیکن یہاں خواتین کی حاضری نے بھی ریکارڈ توڑ دیا، پہلی مرتبہ عورتوں کا سیشن بھی رکھا گیا اور اسٹیج ان کے حوالے کر دیا گیا جس میں غیر ملکی نمائندہ خواتین نے بھی حصہ لیا، خواتین رہنماؤں نے انتہائی اعتماد، جوش اور ولولے کے ساتھ سیشن کی کارروائی چلائی اور ثابت کر دیا کہ وہ صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ہیں، اجتماع سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جماعت اسلامی کی دعوت اب اعلیٰ تعلیم یافتہ، تعلیم یافتہ، تاجر، صنعت کار، اور متوسط طبقے سے آگے بڑھ کر کم تعلیم یافتہ، ہنرمند، ان پڑھ مزدوروں، سبزی فروشوں، ڈرائیوروں، چھابڑی والوں، ٹھیلے والوں تک پھیل چکی ہے کیونکہ ان طبقات کی بڑی تعداد اجتماع میں شریک تھی اور جوش و جذبے سے معمور تھی، پھر اجتماع میں روایتی ہی نہیں ماڈرن نوجوان بھی شامل تھے جوہر کارروائی میں بہت دلچسپی کا اظہار کر رہے تھے۔
اجتماع عام میں کچھ نئے تجربات کیے گئے جو یقینا باہمی مشوروں کے بعد ہی کیے گئے ہوں گے۔ جماعت اسلامی میں ان نئے اقدامات کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گی بلکہ اس کا آغاز ہوچکا ہے، ایک لحاظ سے اسے نئی بحث نہیں کہنا چاہیے کیونکہ جب سے جماعت اسلامی قائم ہوئی ہے اس میں معیار و مقدار پر ہمیشہ غور و فکر اور مشورے ہوتے رہے ہیں معیار برقرار رکھنے کے حامیوں کے پاس اپنے دلائل ہیں اور تعداد بڑھانے کے حامیوں کے پاس اپنے، میرے خیال میں دونوں طرف کے حامیوں کو اسلام کے دور اوّل کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جب دائرہ اسلام میں لوگ جوق در جوق داخل ہونے لگے تو معیار برقرار رکھنے کے اقدامات تو کیے گئے لیکن کسی بھی خوف سے دعوت کو محدود نہیں کیا گیا، اب بھی ایسا ہی کیا جانا چاہیے اپنا معیار برقرار رکھنے کی ہر ممکن جستجو کرنی چاہیے، اس کے لیے نئے طریقے سوچنے چاہئیں لیکن دعوت کو ہرگز محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ان شاء اللہ اس بحث کا نتیجہ بھی ہمیشہ کی طرح خیر کی صورت میں ہی ظاہر ہوگا اور سید مودودیؒ کا یہ قافلہ مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھے گا۔ اس اجتماع عام کی عظیم الشان کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ مینار پاکستان اور اس کے آس پاس کے تمام مقامات پر بہت بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے اور اس مقصد کے لیے لاہور شہر کے علاوہ دیگر قریبی شہروں سے بھی شامیانے وغیرہ منگوانے پڑے تھے اس کے باوجود جب کارکنوں کے قافلے وہاں پہنچے تو تمام انتظامات ناکافی پڑ گئے مزید شہروں سے اشیاء منگوائی گئیں حتیٰ کہ پنجاب کے بہت سے بھائی بہنوں نے اپنی اقامت گاہیں دیگر صوبوں سے آنے والوں کے لیے خالی کر دیں اور وہ لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھروں پر راتیں گزارتے رہے۔
جماعت اسلامی نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی انتہائی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اسٹیج پر ان ممتاز شخصیات کو بھی مدعو کیا تھا جن کا جماعت اسلامی سے تعلق نہیں ہے اسی طرح مشاعرے میں بھی کسی امتیاز کے بغیر شعرائے کرام کو مدعو کیا گیا، تین روز کے دوران تقاریر میں تمام شعبہ ہائے زندگی کا احاطہ کیا گیا قرآن و حدیث کی تعلیم ہو یا عملی تربیت کا میدان، سیاست کی گتھیاں ہوں یا عدالت کی ناانصافیاں، معیشت کی پیچیدگیاں ہوں یا صحت کے مسائل، عصری تعلیم کی مشکلات ہوں یا مدارس دینیہ کے حالات، بلدیاتی نظام کے ساتھ سیاست دانوں کا سوتیلا پن ہو یا قومی و صوبائی خزانوں کی غیر منصفانہ تقسیم، کسانوں کا استحصال ہو یا صنعتی کارکنوں پر ظلم و جبر، تمام شعبوں کی درست منظر کشی کی گئی اور مسائل کے قابل عمل حل تجویز کیے گئے، ہمیں یہ خوش گمانی تو نہیں ہے کہ موجودہ قومی اور صوبائی حکومتیں یا اصل حکمران ان قیمتی مشوروں اور تجاویز سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن یہ امید ضرور ہے کہ پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے افراد ان کا مطالعہ کریں گے، انہیں سراہیں گے، ان کی حمایت کریں گے اور جب جماعت اسلامی کے پاس اختیار و اقتدار آئے گا تو وہ ضرور ان پر عمل درآمد کی کوشش کرے گی۔ اس طرح ایک خوشحال اور عادلانہ معاشرے کا ہمارا خواب پورا ہو سکے گا۔
امیر جماعت اسلامی محترم حافظ نعیم الرحمن نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جو لائحہ عمل پیش کیا ہے اس کا ایک ہی مقصد نظر آتا ہے، موجودہ فرسودہ، ظالمانہ، استحصال پر مبنی سسٹم کو جدید عادلانہ اور احسان و ایثار سے مزین نظام سے بدل دینا۔ بظاہر یہ ایک ایسا خواب لگتا ہے جس کی تعبیر ممکن نہ ہو لیکن غور کیجیے جب مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تھی اور جو اہداف مقرر کیے تھے وہ بھی دیوانے کا خواب لگتے تھے، لوگ جماعت اسلامی کا، اس کے نعروں کا، اس کی اصطلاحات تک کا مذاق اڑاتے تھے پھر ایک وقت ایسا ایا کہ یہ نعرے نوجوانوں کے سب سے مقبول نعرے ہو گئے اور ملک کے طول و عرض میں گونجنے لگے، تعلیمی اداروں جامعات میں کالجوں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے فعال یونٹ قائم ہوئے اور اتنے مضبوط ہوئے کہ انہوں نے طلبہ کی قیادت کی، یونین انتخابات میں جمعیت مسلسل کامیاب ہوتی رہی تاآنکہ ایک کوتاہ اندیش آمر جنرل ضیاء الحق نے طلبہ یونینوں پر پابندی لگا دی اور ملک کی قیادت کی نرسری کو تباہ کر دیا ایسی نرسری جہاں ہر شعبہ زندگی کے رہنما تیار ہوتے تھے۔
اسی طرح جب جماعت اسلامی نے مزدور یونینوں کی طرف رخ کیا تو ووٹ کی طاقت سے ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل ملز اور دیگر اداروں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیے، مزدوروں کے لیے شاندار مراعات حاصل کیں، پھر ایک سیٹھ نواز شریف کو اقتدار دے دیا گیا جس نے مختلف حربوں سے لیبر یونین کو ختم کر کے رکھ دیا آج ہر سطح پر مزدور ظلم و ستم کا شکار ہیں، ان سے 12، 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ بھی نہیں دی جاتی نہ ہی انہیں ملازمت کا تحفظ حاصل ہے۔ خدمت خلق وہ میدان ہے جس میں جماعت اسلامی کی دیانت، مہارت اور اعلیٰ ترین کارکردگی کا دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں، ’’الخدمت‘‘ ہر سال غریبوں کے لیے جاری منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ اس کے عطیہ دہندگان میں اپنے ہی نہیں مخالفین بھی شامل ہیں اور یہ کسی بھی خیراتی ادارے کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اسی طرح صحافت میں بھی تحریک اسلامی کامیاب رہی، اعلیٰ معیارات قائم کیے، ووٹ کی طاقت سے متعدد صحافتی اداروں میں کامیابی حاصل کی، حافظ نعیم الرحمن نے جو اہداف مقرر کیے ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ وہ بھی ایک دن ضرور حاصل ہوں گے، پارلیمانی شعبے میں بھی جماعت اسلامی کامیابی حاصل کرے گی اور ملک کے طول و عرض میں اسلام کا پھریرا لہرائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے ساتھ کیے گئے کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔