آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا‘ وفاقی وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے رواں ہفتے اجلاس ہوگا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا ہے، اصلاحات کے عمل میں پیش رفت جاری ہے‘ کلائمیٹ فنانسنگ بہت اہم ہے، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بہتری خوش آئند ہے، پائیدار ترقی کے لیے ادائیگی کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں، مجموعی طور پر برآمدات میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی بہتری کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے‘ آئی ٹی شعبے میں ماہانہ بنیادوں پر بہتری دیکھی جا رہی ہے‘ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، آئی ٹی سیکٹر بہترین کارکردگی پیش کر رہا ہے، حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ کم ہونے کا قرض ادائیگی پر مثبت اثر مرتب ہوا‘ پانڈا بانڈ کا جلد اجرا کرنے جا رہے ہیں، ہم سب ’’پاکستان فرسٹ‘‘ کے ایجنڈے کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال ترسیلات زر 41ارب ڈالر پر پہنچنے کا تخمینہ ہے‘ پرائیویٹ سیکٹر کی اچھی تجویز پر جلد سے جلد کام ہوگا‘ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے خاتمے کی کابینہ سے منظوری کے لیے سمری بھیجی جا چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔