اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پشاور(نیوزڈیسک )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کا راج ہے لہذا کسی اور راج کی ضرورت نہیں، اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں ہم کسی سے ڈرتے نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیات آباد میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمزور اور خصوصی طبقات کے لیے عمران خان کا جو احساس اور وژن ہے، وہی ہمارا راستہ اور ترجیح ہے، کپتان نے حکم دیا کہ زکوٰة فنڈ میں موجود رقوم فوری طور پر مستحقین میں تقسیم کی جائیں، جبکہ ضم اضلاع کے معذور افراد کو بھی معاونتی آلات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت یہ تمام تر اقدامات اپنے وسائل سے کر رہی ہے، جبکہ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 3000 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں، آپ سوچیں اگر وفاق ہمارے بقایاجات ادا کر دے تو ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ”ہم ڈیلیور کر رہے ہیں، عوام کو ریلیف دے رہے ہیں، پھر بھی ہم پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں“۔
وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع کے اسکولوں کے لیے بھی ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا اور خصوصی بچوں کے اسکولوں میں تمام ناپید سہولیات فوری طور پر مہیا کرنے کی ہدایت کی۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبہ بھر سے شدید معذوری کے شکار افراد کے لیے “احساس امید پروگرام” کا اجرا کر دیا، جس کے تحت دس ہزار خصوصی افراد کو فی کس پانچ ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔
پروگرام پر رواں مالی سال جنوری تاجون 2026 تک 30 کروڑ روپےخرچ ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے انتظامی کنٹرول میں چلنے والے 54 خصوصی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت فراہم کرنے کی غرض سے خریدی گئی 23 گاڑیاں بھی باضابطہ طور پر ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کے حوالے کیں، یہ گاڑیاں مجموعی طور پر تقریباً 37.
اعلامیے کے مطابق مذکورہ فلاحی اقدامات کے باضابطہ اجراءو افتتاح کے سلسلے میں پیر کے روز اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس حیات آباد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔ تقریب کے شرکا کو صوبائی حکومت کے احساس امید پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت شدید معذوری کے حامل افراد کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ مالی معاونت کی رقوم بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے براہِ راست مستحقین کے اکاونٹس میں منتقل کی جائیں گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مستحقین کا انتخاب زکوٰة مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت کیا جائے گا۔ اسی طرح خصوصی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت کی فراہمی کے پروگرام سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خصوصی بچوں کے اسکولوں کے لیے خریدی گئی 23 گاڑیوں میں12 منی بسیں اور11 ہائی ایس شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے مخصوص افراد اور سرکاری جامعات اور کالجوں میں زیر تعلیم طلباءمیں 2000 الیکٹرک وہیل چیئرزتقسیم کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ صوبہ بھر سے مخصوص افراد کو 2500 مینول وہیل چیئرز ، 800 ٹرائی سائیکلیں ،3600 سلائی مشینیں ، 617 سماعت کے آلات ، 102 وائٹ کینز،44 بیساکھیاں اور 96 واکرز فراہم کئے گئے ہیں، جن پر مجموعی طور پر 76 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔