Jasarat News:
2026-06-02@23:25:59 GMT

پڈعیدن: پی پی کے مقامی رہنما ایڈووکیٹ منصور کے گھر ڈکیتی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پڈعیدن(نمائندہ جسارت) پی پی یوسی کھوہی جلال کے صدر ایڈوکیٹ منصور راجپر کے گھر لاکھوں روپے کی ڈکیتی،اہلے خانہ کو یرغمال بنا کر گھر کا تمام سامان لوٹ کر فرار،منصور راجپر کے گھر واردات ہمارے لئے بڑا چییلینج ہے،ایس ایس پی روحل کھوسو۔تفصیلات پڈعیدن تھانہ کی حدود میں پی پی یوسی کھوہی جلال کے صدر ایڈوکیٹ منصور راجپر کے گھر میں نامعلوم مسلح افراد نے گھس کر اہلے خانہ کو مبینہ یرغمال بنا کر ایک گھنٹہ تک لاکھوں روپے کی ڈکیتی واردات کی اور گھر کا تمام سامان لوٹ کر با آسانی فرار ہوگئے واقع کی اطلاع پر اہلے محلہ اور ایس ایس پی نوشہروفیروز روحل کھوسو ایس ایچ او اسلم لغاری پولیس نفری کے ہمراہ پہنچ گئی اور واردات کی تفصیل حاصل کیں اور علاقہ کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش کھوجی کتوں کی مدد سے شروع کردی ہیں اس موقع پر ایس ایس پی نوشہروفیروز نے میڈیا بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ایڈوکیٹ منصور راجپر کے گھر ڈکیتی واردات ہمارے لئے ایک بڑا چیلینچ ہے جلد ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کی گرفت میں لاکر انصاف کے تقازے پورے کئیجائیں گے،جبکہ بڑھتی بدامنی کے باعث لوگوں میں خوف کی فضاء چھائی ہوئی ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منصور راجپر کے گھر

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے