جنوبی وزیرستان اپر میں پولیس کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ تیارزہ کی حدود توروام مارکیٹ کے مقام پر پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جس سے ایک اہل کار زخمی ہوگیا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر بم حملے کے نتیجے میں 3 اہل کار شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پنیالہ میں پولیس موبائل پر بم دھماکا ہوا ہے، جس میں 3 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں، جن میں اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور ڈرائیور سخی جان شامل ہیں جب کہ دھماکے میں کانسٹیبل آزاد شاہ محفوظ رہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو اداروں اور پولیس کی جانب سے شہدا کی لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے اور جائے وقوع سے شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ بم دھماکے کے بعد ڈی ایس پی پنیالہ اور ایس ایچ او موقع پر روانہ ہو گئے ہیں جب کہ علاقے کی ناکا بندی کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان اپر میں پولیس کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔

پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ تیارزہ کی حدود توروام مارکیٹ کے مقام پر پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جس سے ایک اہل کار زخمی ہوگیا۔ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی سے نامعلوم دہشت گرد فرار ہو گئے جب کہ زخمی اہل کار امام حسین کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے، پولیس نے علاقے کی ناکابندی کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پولیس کی گاڑی پر میں پولیس اہل کار ہو گئے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی