آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ چارج شیٹ قرار، حکومت نے کرپشن ایکشن پلان کیلئے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دیدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حکومت نے آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ کو چارج شیٹ قرار دیتے ہوئے 31 دسمبر تک ایکشن پلان تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹیوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے، جن میں رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی میں شرکت کرتے ہوئے کمیٹی کو 15 اہم سفارشات پر بریفنگ دی۔ یہ سفارشات گورننس، ٹیکسیشن، کرپشن، ریگولیٹری امور اور قانون کی بالادستی سے متعلق ہیں۔
حکومت نے آئی ایم ایف کی رپورٹ کو حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کے لیے ایک چارج شیٹ قرار دیا اور کہا کہ بدعنوانی کے تدارک کے لیے 31 دسمبر تک ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ ایکشن پلان مختصر، درمیانے اور طویل المدتی اقدامات پر مشتمل ہوگا، جو 6 ماہ، 18 ماہ اور 36 ماہ کی مدت میں مکمل کیے جائیں گے۔حکومت کی ترجیح ہے کہ سرکاری افسروں کے اثاثے آن لائن کر دیے جائیں تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو اور بدعنوانی کے امکانات کم ہوں۔
پارلیمانی اجلاس میں آئی ایم ایف کی سفارشات پر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا، تاکہ مالی نظام کی مضبوطی اور عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ کرپشن کی روک تھام کے لیے قوانین کے نفاذ اور ریگولیٹری اداروں کی فعال نگرانی بھی شامل ہوگی، تاکہ طویل مدت میں مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔حکومت نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ 31 دسمبر تک تیار ہونے والا ایکشن پلان نہ صرف سفارشات پر عمل کرے گا بلکہ شفافیت اور احتساب کو بھی فروغ دے گا۔
یہ اقدام آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات اور ملکی مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ نہ آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کی ایکشن پلان حکومت نے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔