نیپا چورنگی سانحے: 3 سالہ ابراہیم کی موت، ذمہ داران کا تعین ابھی تک ممکن نہ ہو سکا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اپوزیشن لیڈر ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ کی سربراہی میں سٹی کونسل کے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کمیٹی نے نیپا چورنگی پر مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے 3 سالہ ابراہیم کی جائے حادثہ کا دورہ کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ سانحے کے 4 دن گزرنے کے باوجود اصل ذمہ داران کا تعین نہیں ہو سکا اور بعض افسران کو معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے معطل کیا گیا لگتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی، ٹرانس کراچی اور واٹر کارپوریشن ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ کمیٹی نے واٹر کارپوریشن اور ٹرانس کراچی کی جانب سے پیش کردہ وضاحتیں مسترد کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات سے اداروں کے درمیان رابطہ کے فقدان اور ذمہ داریوں سے لاعلمی سامنے آئی ہے۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے بتایا کہ جمعہ کو ہنگامی اجلاس میں واٹر کارپوریشن اور ٹرانس کراچی کے افسران شریک ہوئے، لیکن میونسپل کمشنر نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی کسی نمائندے کو بھیجا، جس سے کے ایم سی اور میئر کی کراچی کے مسائل میں عدم دلچسپی ظاہر ہوئی۔
اجلاس میں سانحے کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے واٹر کارپوریشن اور ٹرانس کراچی کے افسران سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جس میں اداروں اور افسران کی ذمہ داریاں، کوتاہیاں اور آئندہ کے لیے تجاویز شامل ہوں گی۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کمیٹی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور تفصیلی رپورٹ جلد شائع کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر کارپوریشن ٹرانس کراچی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔