پاک بحریہ اور رائل نیوی آف عمان کی دوطرفہ بحری مشق ثمر الطیب 2025 کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
سٹی 42 : پاک بحریہ اور رائل نیوی آف عمان کی دوطرفہ بحری مشق ثمر الطیب 2025 کا انعقاد کردیا گیا۔
رائل نیوی آف عمان کے بحری جہاز الراسیخ اور الشناس پر مشتمل فلوٹیلا نے کراچی میں منعقدہ دوطرفہ بحری مشق ثمر الطیب 2025 کے بارھویں ایڈیشن میں شرکت کی۔ اس مشق کا مقصد بحری سیکیورٹی میں تعاون کا فروغ اور پاکستان اور عمان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بناناتھا۔
گوجرانوالہ کا ترقی کی شاہراہ پر بڑا قدم؛ شہباز شریف نے بیلچہ چلادیا
کراچی بندرگاہ آمد پر مہمان جہازوں کا روایتی انداز میں پُرتپاک استقبال کیا گیا، جس میں پاک بحریہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر پاک بحریہ کے بینڈ نے اپنےفن کا مظاہرہ کیا۔
بحری مشق ثمر الطیب 2025، باہمی پیشہ ورانہ تعاون اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ پاک بحریہ اور رائل نیوی آف عمان 1980 سے باقاعدگی کے ساتھ اس مشق کا انعقاد کر رہی ہیں، جبکہ اس کا گزشتہ ایڈیشن 2023 میں عمانی سمندری حدود میں منعقد ہوا تھا۔
پشین؛ عوام کو دیکھ کر میر سرفراز بگٹی اچانک گاڑی سے اتر کر لوگوں میں گھل مل گئے
پاک بحریہ کی سینئر قیادت سے ملاقاتیں، جہازوں پر استقبالیے، اور اہم بحری تنصیبات و تربیتی مراکز کے دورے اس مشق کا حصہ تھے۔ دونوں ممالک کے بحری اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مذاکرات، عملی مباحثوں اور بحری شعبے میں تجربات کا تبادلہ کیا۔
یہ دورہ سی فیز پر اختتام پذیر ہوا، جس میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں نے جدید بحری جنگی تقاضوں کے مطابق مشترکہ آپریشنل مشقوں میں حصہ لیا ۔
پاک بحریہ علاقائی بحری تعاون کو فروغ دینے اور دوست ممالک کی بحری افواج کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ثمر الطیب 2025 میں رائل نیوی آف عمان کی شرکت دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری اور خطے میں امن، استحکام اور بحری تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کی مظہر ہے۔
لاہور میں 265 ٹریفک حادثات، 298 افراد زخمی
سورس: آئی ایس پی آر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بحری مشق ثمر الطیب 2025 رائل نیوی آف عمان پاک بحریہ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔