ایران میں بغیر حجاب خواتین کا میراتھون ایونٹ، منتظمین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ایران میں خواتین کی بغیر حجاب میراتھن میں شرکت پر حکام نے میراتھن کے دو منتظمین کو گرفتار کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گرفتاری اُس وقت عمل میں آئی جب جنوبی ایران کے ساحل کے قریب واقع جزیرہ کِش میں ہونے والی میراتھن کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جن میں متعدد خواتین کو بغیر حجاب دوڑ میں شریک دیکھا گیا۔
اس میراتھن میں دو ہزار خواتین اور تین ہزار مردوں نے الگ الگ حصہ لیا تھا۔ تصاویر میں کئی خواتین سرخ شرٹس پہنے بغیر حجاب دوڑتی نظر آئیں جبکہ بعض نے سر بھی نہیں ڈھانپا ہوا تھا، جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔
تبدیلی کے حامی ایرانی شہریوں نے اسے خواتین کی جانب سے سرکاری پابندیوں کے خلاف ایک بہادرانہ قدم قرار دیا، جبکہ حکام کے مطابق یہ اقدام بنیادی قوانین کی خلاف ورزی اور موجودہ نظام کے لیے چیلنج ہے۔
ایرانی عدلیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نہ صرف حجاب قانون کی خلاف ورزی قابل اعتراض ہے بلکہ اس بات پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ ایسی میراتھن کے انعقاد کی اجازت کیوں دی گئی۔
واضح رہے کہ ایران میں عوامی مقامات پر خواتین کا سر ڈھانپنا لازمی ہے، اور 2022 میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔