افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، افغان علما کا دوٹوک مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل میں افغان علما اور مذہبی رہنماؤں کے اہم اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ کوئی بھی فرد سرحد عبور کرکے بیرونِ ملک عسکری سرگرمیوں میں حصہ نہ لے۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ اپنے حقوق اور شرعی نظام کا دفاع فرض ہے مگر افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
علما نے اسلامی امارت سے مطالبہ کیا کہ رہبر کے حکم کے مطابق کسی کو بھی بیرونِ ملک جنگ کیلئے نہ بھیجا جائے، اور اگر کوئی اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے تو امارت کو کارروائی کا مکمل اختیار ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایک ہزار افغان رہنماؤں نے شرکت کی اور اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔
افغان علما کا یہ مؤقف پاکستان کے دیرینہ مطالبے کی تائید سمجھا جارہا ہے، لیکن سرحد پار دراندازی کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔
استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تین دور کے مذاکرات افغان فریق کی ہٹ دھرمی کے باعث بے نتیجہ رہے۔ پاکستان نے افغانستان سے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت مانگی جو طالبان پیش نہ کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال نہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔