مولانا فضل الرحمن 21دسمبر سے 4روزہ دورے پر سندھ پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جے یو آئی کے سربراہ، ممتاز اسکالر، اور معروف سیاستدان مولانا فضل الرحمان 21 ڈسمبر سے سندھ کا 4 روزہ دورہ کرینگے، جے یو آئی سندھ کے قائد، علامہ راشد محمود سومرو انکے ساتھ ہونگے۔تفصیلات کے مطابق، جمعیت علماء اسلام سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا ہے کہ جے یو آئی کے سربراہ ممتاز سیاسی، اور مذہبی اسکالر مولانا فضل الرحمان 21 ڈسمبر کو لیاری کراچی میں ایک تاریخی اور اہم ختم بخاری کے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس پروگرام میں بڑی تعداد میں علما، مشائخ، اور عوام شریک ہوں گے، جہاں مولانا فضل الرحمان اپنے مخصوص انداز میں خطبہ دیں گے اور اہم دینی مسائل پر روشنی ڈالیں گے۔23 ڈسمبر کو قائد جمعیت گلشن شہید لاڑکانہ میں قائد لاڑکانہ علامہ ناصر محمود سومرو کی نگرانی میں ایک شاندار ختم بخاری کی تقریب میں شرکت کریں گے، جس میں دینی روایات اور دین کے حوالے سے گرانقدر خطاب کیا جائے گا۔ اس موقع پر محفل میں علما کرام اور حفاظ کی دستار بندی کی جائے گی، جو اس دن کی اہمیت کو مزید بڑھا دے گی جبکہ 24 ڈسمبر کو جامع منزل گاہ سکھر میں جے یو آئی کے مرکزی ناظم مفتی سعود افضل ہالیجوی کی نگرانی میں ہونے والے ایک عظیم الشان تحفظ مدارس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں مولانا فضل الرحمان اپنے خطاب میں مدارس کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیں گے اور ملکی و عالمی سطح پر مدارس کی اہمیت کے بارے میں بات کریں گے۔ اس کانفرنس میں علماء ، مشائخ، اور دینی تنظیموں کے نمائندگان کی بڑی تعداد شریک ہو گی۔جے یو آئی سندھ کیقائد علامہ راشد محمود سومرو نے اس پورے دورے کو کامیاب بنانے کے لیے ہدایات جاری کردیں ہیں،وہ پروگرامز کے انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان تمام پروگراموں میں علماء کرام اور حفاظ کی دستار بندی کی جائے گی، جو اس دورے کی خاص بات ہو گی اور سندھ بھر میں دینی جوش و جذبہ پیدا کرے گی۔مولانا فضل الرحمان کے اس دورے کے ذریعے سندھ میں دینی روایات، مدارس کے تحفظ، اور اسلامی تعلیمات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کا مقصد دینی حلقوں میں اتحاد اور امن کا پیغام دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان جے یو ا ئی کی اہمیت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔