فیض حمید کے خلاف قانون اور آئین کا حرکت میں آنا ناقابل تصور تھا، طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
سٹی42: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ فیض حمید نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا .
طارق فضل چوہدری نے کہا، کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ فیض حمید جو اقدامات کر رہے ہیں انکے خلاف آئین و قانون بھی حرکت میں آئے گا۔ موجودہ فوجی قیادت لائق تحسین ہے ، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کے انہیں صفائی دینے کا موقع نہیں ملا۔
کشمیر میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی, خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی
24نیوز کےپروگرام نسیم زہرا @پاکستان میں گفتگو ہوئےکرتے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ فیض حمید کو سزا کسی جماعت کی یا گورنمٹ کی فتح نہیں بلکہ آئین اور رول آف لاء کی فتح ہے ،پاکستان کی سیاست میں آج بھی عدم استحکام ہے جو ماضی میں شادیانے بجاتے رہے ہیں اس پر فیز ٹو آرہا ہے ، فیز ٹو میں وہ لوگ آئیں گے جو فیض سسٹم بینیفیشری ہیں وہ اس میں آئیں گے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ 15 ماہ کے ٹرائل کے اندر اگر کسی اور شخصیت کی مداخلت ہوتی تو وہ ریکارڈ میں آتی ۔
انگاروں پر چلنے والے آٹھ انسانوں کے ساتھ "سوشل میڈیا انصاف" کے بعد کیا ہوا؟
اسی شو میں گفتگو ہوئےکرتے دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر)زاہد محمود نے کہا کہ یہ اب طے ہو کہ کوئی فرد کسی پارٹی سے یا ادارے سے یا کوئی ادارہ پاکستان سے بڑا نہ رہے ، War is a political activityسیاستدانوں کو لیڈ کرنا ہو گا تب جا کے nation بنتی ہے ۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماہر قانون حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ 40 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکتی ہے ، ٹاپ سٹی کیس میں اور ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سیاسی گھٹ جوڑ کیا ہے، اس پر فیض حمید کو سزا ملی ہے ۔
موٹروے ایم 5 بند
انہوں نے مزید کہا کپ کوئی بھی فوجی افسر کسی اہم عہدے سے ریٹائر ہوتا ہے تو وہ 5 سال تک کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری فیض حمید نے کہا
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔