وزیراعظم کا قومی ریگولیٹری اصلاحات کے پیکج کا اجرا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج لاہور میں قومی ریگولیٹری اصلاحات کے جامع پیکج کا باقاعدہ اجرا کیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نیا ریگولیٹری فریم ورک ایک انقلابی پیش رفت (کوانٹم جمپ) ہے جو کاروباری برادری، صنعتکاروں، زرعی شعبے اور یورپ، مشرقِ بعید اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو نمایاں سہولت فراہم کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ اصلاحات وقت اور وسائل کے ضیاع کا خاتمہ کریں گی، جس سے بدعنوانی اور اقربا پروری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات دہائیوں سے عوامِ پاکستان کا مطالبہ تھیں، جنہیں اب عملی شکل دی جا رہی ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ’’آسان کاروبار‘‘ ٹیکنیکل یونٹ کی قیادت سونپی ہے، جو ایک خصوصی ادارہ ہوگا اور مسلسل ریگولیٹری جدید کاری کے ذریعے پاکستان کے کاروباری ماحول کو بین الاقوامی بہترین معیار سے ہم آہنگ کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تاریخی اصلاحات پر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی تبدیلی کا احساس ہو۔
وزیراعظم نے مارچ 2024 میں درپیش سنگین معاشی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتھک کوششوں کے باعث پاکستان اب معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی اشاریے حوصلہ افزا ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 1.
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نوجوان آبادی کا حامل ملک ہے اور حکومت انہیں ووکیشنل ٹریننگ اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے وسیع مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی باعزت اور پیداواری روزگار حاصل کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی توجہ معاشی ترقی اور زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور معدنیات جیسے پُرکشش شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔
اس موقع پر برطانیہ کی وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی ترقی بیرونس جینی چیپ مین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی معاشی اصلاحات کاروباری برادری بالخصوص برطانوی سرمایہ کاروں کے لیے مثبت نتائج دے رہی ہیں۔
بیرونس جینی چیپ مین نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے یہاں کام کرنے اور سرمایہ کاری کرنے والی دو سو سے زائد برطانوی کمپنیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ قومی ریگولیٹری اصلاحات پاکستان میں مزید برطانوی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گی اور سرمایہ کاری و ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گی۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پائیدار ترقی اور نمو کے حصول کے لیے تمام شعبوں میں اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ اور دوراندیش ریاستیں سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مسابقت اور جدت پر بھی توجہ دیتی ہیں۔
ہارون اختر نے مزید کہا کہ ٹیرف اصلاحات، ریگولیٹری فریم ورک میں جدت اور صنعتی بحالی کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش