سندھ کی زمین وسائل عسکری کمپنیوںکے حوالے کیے جارہے ہیں، عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)خیرپور ناتھن شاہ تعلقہ بار ایسوسی ایشن میں عوامی تحریک کی جانب سے 21 دسمبر کو لاڑکانہ میں ہونے والے‘‘سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ مارچ’’کے سلسلے میں وکلاء کو دعوتیں دی گئیں۔ اس موقع پر عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ ساجد
حسین مہیسر، مرکزی لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ نجیب الرحمان مہیسر، عوامی تحریک کے رہنما مصطفی رحمان ابڑو اور سندھی شاگرد تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر اعتزاز گائنچو تعلقہ بار خیرپور ناتھن شاہ پہنچے اور وکلاء ایڈووکیٹ لعل شاہ، ایڈووکیٹ شاہ پسند لغاری، ایڈووکیٹ سلطان احمد آرائیں، ایڈووکیٹ فرحان علی سومرو، ایڈووکیٹ مظہر علی گاڈھی، ایڈووکیٹ غلام سرور گاڈھی، ایڈووکیٹ شیراز مشوری، ایڈووکیٹ منور علی لغاری سمیت دیگر وکلاء کو 21 دسمبر کو لاڑکانہ میں ہونے والے مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ اور گرین ٹوئرازم کے نام پر سندھ کی زمینوں، پانی اور وسائل کو عسکری اداروں سے وابستہ کمپنیوں کے حوالے کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ سندھ کے ہاری، کاشتکار اور قومی خودمختاری کے لیے موت کے مترادف ہے، جس کے خلاف مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دنیا میں سویلین اور جمہوری حکومتیں مضبوط ہو رہی ہیں، مگر ہمارے ہاں پوسٹ ہائبرڈ سسٹم سے بھی بدتر نظام قائم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوامی تحریک تحریک کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔