data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ /تل ابیب /قاہرہ /جنیوا /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں اور گزشتہ روز ایک فضائی حملے میں حماس کے اہم ترین کمانڈر رعد سعد 2 ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک کار پر کیا گیا یہ حملہ حماس کے اہم ترین
کمانڈر رعد سعد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا جن کی موجودگی کی اطلاع انٹیلی جنس نے دی تھی۔ اسرائیل نے یہ فضائی حملہ جنگ بندی لائن کے اس حصے میں کیا جو اب بھی حماس کے کنٹرول میں ہے جو کہ غزہ سیز فائر کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ تاحال حماس کی جانب سے اپنے سرگرم ترین کمانڈر رعد سعد کی شہادت کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں رعد سعد پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023ء کو جنوبی اسرائیل میں ہونے والے حملوں کے ’’اہم منصوبہ سازوں میں سے ایک‘‘ تھے۔غزہ میں اسرائیلی حملوں اور طوفان بائرن نے تباہی مچا دی، شدید سردی اور اسرائیلی حملوں میں 16 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق طوفان کے باعث غزہ میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہوئے، اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹے کے دوران 2 فلسطینی شہید ہوئے۔ شمالی غزہ کے علاقے بیر النعاجہ میں ایک مکان گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہو گئے، غزہ شہر کے رمال محلے میں دیوار گرنے سے مزید 2 افراد جان سے گئے۔شاطی کیمپ اور المواسی میں شدید سردی کے باعث متعدد بچے لقمہ اجل بن گئے، خان یونس میں 8 ماہ کی بچی بارش کے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی۔غزہ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان بائرن سے 8 لاکھ 50 ہزار افراد خطرے میں ہیں‘ مسلسل محاصرے نے غزہ میں بے گھر خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطین فرانسسکا البانیز نے غزہ کی صورت حال کا ذمہ دار اسرائیل، امریکا، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کو قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسسکا البانیز نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں استعمال ہونے والے اسلحہ امریکا، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی نے فراہم کیا تھا‘ غزہ کی تباہی کا ذمہ دار صرف حملے کرنے والا اسرائیل ہی نہیں بلکہ اسے اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تباہ حال غزہ کی تعمیر نو کے لیے نہ صرف اسرائیل بلکہ اسے اسلحہ فراہم کرنے والے امریکا، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی رقم فراہم کریں۔ امریکی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کے اختیار کے تحت ایک عالمی استحکامی فورس (اسٹیبلائزیشن فورس) تعینات کی جا سکتی ہے، جس میں بین الاقوامی فوجی دستے شامل ہوں گے اور اس کی تعیناتی ممکنہ طور پر اگلے ماہ ہی شروع ہو سکتی ہے تاہم، اس بات پر ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ حماس کو غیر مسلح کیسے کیا جائے گا۔ 2 امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک امریکی ٹو اسٹار جنرل کو اس فورس کی قیادت کے لیے زیرِ غور لایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مصر نے غزہ میں کسی بھی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کو مسترد کر دیا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے واضح کیا ہے کہ مصر ہر اُس کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کرنا یا غزہ کی پٹی کی جغرافیائی یا آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہو۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق حماس کے غزہ کی

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری