امیر جماعت اسلامی کا 21 دسمبر کو موجودہ نظام کے خلاف احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی 21 دسمبر سے موجودہ نظام کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی۔ لاہور میں کارکنوں کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فرسودہ اور ناانصافی پر مبنی نظام کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے زور دیا کہ بلدیاتی نظام کا مؤثر نفاذ ناگزیر ہے اور خاندانی سیاست کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ اسی سیاست نے بلدیاتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے شہر ہو یا دیہی علاقے، ہر ووٹر کو اس کے ووٹ کا حقیقی حق ملنا چاہیے اور جسے عوام ووٹ دیں، وہی پارلیمان تک پہنچے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف نے مبینہ طور پر 70 فیصد سے زائد ناجائز ووٹ لیے، اس کا احتساب کون کرے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بہتر روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانا قابلِ فہم ہے، مگر مایوسی کے باعث وطن چھوڑنا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کھیل کے میدان آباد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ چند طاقتور افراد نے دولت اور اختیار کے زور پر پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے اور جماعت اسلامی اسی ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں ہر فرد کو اس کا حق ملتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب آدمی کے لیے انصاف تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے، خاص طور پر 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتیں مزید کمزور ہو چکی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب نوجوانوں پر معمولی معاملات میں بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں تو جمہوریت کی کھلی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا۔
انہوں نے لاہور اجتماع کے انعقاد پر کارکنوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب نے مل کر محنت کی اور اس کا اجر اللہ تعالیٰ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ پوری طرح متحرک ہے اور پاکستان کے نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق یہ اجتماع پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی انہوں نے کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔