پاک بحریہ کا فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کے فائرپاورکامظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نیوی نے شمالی بحیرہ عرب میں فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ کے ذریعے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیت کی مؤثر توثیق کر دی ہے۔
پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ (پی آر این) کے مطابق اس مشق کے دوران FM-90(N) ER سطح سے فضا تک مار کرنے والے میزائل کی کامیاب فائرنگ کی گئی۔ مظاہرے کے دوران پاک بحریہ کے جہاز نے انتہائی مینوریبل فضائی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جو بحری دفاعی نظام کی اعلیٰ کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کامیاب لائیو فائرنگ سے پاک بحریہ کی فائر پاور اور جنگی صلاحیت ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے، جو بدلتے ہوئے علاقائی سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بحریہ کی مکمل تیاری کو ظاہر کرتی ہے۔
اس موقع پر کمانڈر پاکستان فلیٹ ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے فلیٹ یونٹ پر لائیو فائرنگ کا مشاہدہ کیا اور مشق میں حصہ لینے والے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا۔
کمانڈر پاکستان فلیٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ہر صورت پاکستان کے سمندری دفاع کو یقینی بنانے اور قومی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔