سڈنی بیچ حملہ دہشت گردی قرار، فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا نکلے، پولیس نے مزید کسی حملہ آور کی تلاش نہ کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
سڈنی بیچ حملہ دہشت گردی قرار، فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا نکلے، پولیس نے مزید کسی حملہ آور کی تلاش نہ کرنے کا اعلان کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 December, 2025 سب نیوز
سڈنی (آئی پی ایس) آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو پولیس نے دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔
پولیس کے مطابق حملے میں ملوث افراد باپ بیٹا تھے، جن میں سے ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ فائرنگ یہودی برادری کی ایک تقریب کے دوران کی گئی۔ ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور زخمی حملہ آور کی شناخت 24 سالہ نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق ساجد اکرم گزشتہ 10 برس سے اسلحہ لائسنس کا حامل تھا اور ایک گن کلب کا باقاعدہ رکن بھی تھا۔ اس کے قبضے سے چھ ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں، جن کے فائرنگ واقعے میں استعمال ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی دومختلف کارروائیوں میں 13خوراج جہنم واصل خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی دومختلف کارروائیوں میں 13خوراج جہنم واصل سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا، ابھی بہت سے فیصلے آنے ہیں، رانا مشہود پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں فضا تک مار کرنے والے میزائل کے فائر پاور کا مظاہرہ فیض حمید کے ساتھ جو بھی شریک جرم رہا قانون کے کٹہرے میں آئے گا، رانا تنویر اسلام آباد، این سی سی آئی اے کی بڑی کارروائی، شہریوں سے رقم ہتھیانے ،مالی فراڈ میں ملوث 8رکنی گروہ گرفتار معروف روحانی شخصیت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی انتقال کر گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پولیس نے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔