پاکستان سے شکست کے بعد بھارت سفارتی محاذ پر عالمی تنہائی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت کو عالمی سفارتی محاذ پر ایک کے بعد ایک پسپائی کا سامنا ہے، جس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی اور نام نہاد عالمی تعلقات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
نئی دہلی کی جانب سے برسوں سے پیش کی جانے والی طاقتور بھارت کی تصویر اب عملی طور پر کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ میں واضح دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کی قیادت میں قائم جدید ٹیکنالوجی کے اہم عالمی اتحاد پیکس سیلیکا سے بھارت کو باہر نکال دیا گیا ہے، جسے مودی حکومت کے بلند بانگ دعوؤں پر ایک سخت طمانچہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اتحاد دراصل قابلِ اعتماد ممالک کے ساتھ محفوظ اور مستحکم سلیکون سپلائی چین قائم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، تاہم بھارت کو اس میں شامل نہ کیے جانے نے نئی دہلی کی سفارتی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کے مطابق اس فیصلے پر خود بھارت کے اندر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے واضح طور پر کہا ہے کہ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی شکست کے بعد بھارت کی عالمی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے کسی بڑے اسٹریٹجک اتحاد سے بھارت کو باہر رکھنا حیران کن نہیں۔
جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ 10 مئی کے بعد عالمی سطح پر بھارت کے ساتھ رویے میں واضح تبدیلی آئی ہے، جہاں اب نئی دہلی کو قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پیکس سیلیکا جیسے حساس اور مستقبل ساز اتحاد سے اخراج اس بات کی علامت ہے کہ دنیا مودی حکومت کے دعوؤں پر اندھا اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں رہی۔
بھارتی اپوزیشن نے اس صورت حال کو مودی حکومت کی عالمی سطح پر بدترین گراوٹ سے تعبیر کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کی ذاتی دوستیوں کے دعوے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد اور بڑی بڑی سفارتی تقریبات کے باوجود بھارت عملی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے دور میں کسی اہم اتحاد سے باہر ہونا کسی بھی ملک کے لیے بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے اور بھارت کے لیے یہ دھچکا خاص طور پر شدید ہے۔
اُدھر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی مؤثر سفارتی حکمت عملی اور علاقائی توازن میں ذمہ دارانہ کردار نے عالمی برادری میں اسلام آباد کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے جب کہ اس کے برعکس بھارت مسلسل غلط فیصلوں اور جارحانہ پالیسیوں کے باعث تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کے ہاتھوں تاریخی ہزیمت کے بعد بھارت کو نہ صرف دفاعی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا ہے اور ہر نیا قدم نئی رسوائی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد بھارت مودی حکومت بھارت کو رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔