data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت کو عالمی سفارتی محاذ پر ایک کے بعد ایک پسپائی کا سامنا ہے، جس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی اور نام نہاد عالمی تعلقات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نئی دہلی کی جانب سے برسوں سے پیش کی جانے والی طاقتور بھارت کی تصویر اب عملی طور پر کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ میں واضح دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کی قیادت میں قائم جدید ٹیکنالوجی کے اہم عالمی اتحاد پیکس سیلیکا سے بھارت کو باہر نکال دیا گیا ہے، جسے مودی حکومت کے بلند بانگ دعوؤں پر ایک سخت طمانچہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اتحاد دراصل قابلِ اعتماد ممالک کے ساتھ محفوظ اور مستحکم سلیکون سپلائی چین قائم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، تاہم بھارت کو اس میں شامل نہ کیے جانے نے نئی دہلی کی سفارتی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کے مطابق اس فیصلے پر خود بھارت کے اندر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے واضح طور پر کہا ہے کہ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی شکست کے بعد بھارت کی عالمی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے کسی بڑے اسٹریٹجک اتحاد سے بھارت کو باہر رکھنا حیران کن نہیں۔

جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ 10 مئی کے بعد عالمی سطح پر بھارت کے ساتھ رویے میں واضح تبدیلی آئی ہے، جہاں اب نئی دہلی کو قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ  پیکس سیلیکا جیسے حساس اور مستقبل ساز اتحاد سے اخراج اس بات کی علامت ہے کہ دنیا مودی حکومت کے دعوؤں پر اندھا اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں رہی۔

بھارتی اپوزیشن نے اس صورت حال  کو مودی حکومت کی عالمی سطح پر بدترین گراوٹ سے تعبیر کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کی ذاتی دوستیوں کے دعوے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد اور بڑی بڑی سفارتی تقریبات کے باوجود بھارت عملی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے دور میں کسی اہم اتحاد سے باہر ہونا کسی بھی ملک کے لیے بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے اور بھارت کے لیے یہ دھچکا خاص طور پر شدید ہے۔

اُدھر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی مؤثر سفارتی حکمت عملی اور علاقائی توازن میں ذمہ دارانہ کردار نے عالمی برادری میں اسلام آباد کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے جب کہ اس کے برعکس بھارت مسلسل غلط فیصلوں اور جارحانہ پالیسیوں کے باعث تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کے ہاتھوں تاریخی ہزیمت کے بعد بھارت کو نہ صرف دفاعی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا ہے اور ہر نیا قدم نئی رسوائی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے بعد بھارت مودی حکومت بھارت کو رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار